http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 10 May, 2006, 10:03 GMT 15:03 PST

’سہواگ کو تنبیہہ نہیں کی گئی‘

بھارتی کرکٹ بورڈ نے تردید کی ہے کہ ٹیم کے بارے میں بیانات دینے پر اوپننگ بیٹسمین وریندر سہواگ کو کوئی تنبیہہ کی گئی ہے۔

اس ہفتے کے آغاز پر سہواگ نے کہا تھا کہ وہ امید کررہے ہیں کہ سابق کپتان سورو گنگولی قومی ٹیم میں اپنی پوزیشن دوبارہ سے حاصل کرسکیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے سیکریٹری نرنجن شاہ کا کہنا ہے کہ سہواگ کو تنبیہ نہیں کی گئی ہے، صرف ایک نصیحت ہے۔ ’سہواگ کے خلاف ایکشن لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

انہوں نے بتایا ’سہواگ نے مجھ سے رابطہ کیا کیونہ وہ اپنی بیوی کو ویسٹ انڈیز کے دورے پر ساتھ لے جانے کے لیئے اجازت چاہتا تھا اور میں اس پر راضی ہوگیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میڈیا کے سامنے کھلاڑیوں کے انتخاب یا پالیسی پر کوئی بیان نہ دیں‘۔

ٹیم کے کوچ گریگ چیپل کے ساتھ ایک تنازع کے بعد گنگولی کو اس سال کے آغاز پر ون ڈے سکواڈ اور ٹیسٹ میچ سے نکال دیا گیا تھا۔

ٹیم میں ان کی غیر موجودگی پر کرکٹ کے فین اور تجزیہ کاروں کی متضاد آراء ہیں۔ سابق کھلاڑیوں چیتن چوہان اور ایراپلی پراسانا نے بی سی سی آئی کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

تاہم سابق کپتان گنڈاپا وشواناتھ کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کا ذکر میڈیا کے سامنے نہیں کرنا چاہیئے۔ ’ان معاملات کو کھلاڑیوں اور بورڈ کے مابین ہی طے کرلینا چاہیئے‘۔

بھارتی سکواڈ ویسٹ انڈیز میں پانچ ایک روزہ میچوں کے لیئے روانہ ہوگئی ہے۔ بھارت نے 2005 میں سری لنکا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کھیلا تھا۔

ابھی سیلیکٹرز نے 23 مئی سے شروع ہونے والے چار ٹیسٹ میچوں کے لیئے ٹیم کا اعلان کرنا ہے۔