Saturday, 22 April, 2006, 17:53 GMT 22:53 PST
عبدالرشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
بھارت کی طرف سے ننانوے ٹیسٹ میچ کھیلنے والے اظہرالدین کا کہنا ہے کہ ’کرکٹ میرا اوڑھنا بچھونا ہے اور اگر میں اس کھیل میں کسی نہ کسی حیثیت میں روزی کما رہا ہوں تو دنیا کے کسی آئین میں یہ نہیں لکھا ہے کہ مجھ سے یہ حق چھین لیا جائے‘۔
اس ٹیم کی قیادت بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین کر رہے ہیں جن کے کرکٹ کھیلنے پر میچ فکسنگ کے الزام کے بعد تاحیات پابندی عائد ہے۔
ان کے علاوہ بھارت کے سابق آل راؤنڈر منوج پربھارکر بھی اس ٹیم میں شامل ہیں جنہوں نے بھارتی کرکٹ میں میچ فکسنگ ہونے کے بارے میں صدا بلند کی تھی اور اپنے ہی ایک ساتھی کرکٹر کپل دیو کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں الزام عائد کیا تھا اور بعد میں تحقیقات کے بعد منوج پربھارکر پر بھی پانچ سالہ پابندی عائد کردی گئی تھی۔
بھارتی ویٹرنز کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کے سابق لیگ اسپنر عبدالقادر کو پاکستان سینئرز کا کپتان مقرر کیاگیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی اس یہ سیریز آغاز سے قبل ہی شہ سرخیوں میں آچکی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس میں اظہرالدین کی موجودگی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارتی ٹیم کی کراچی آمد کے فورا بعد ہونے والی کپتانوں کی پریس کانفرنس میں اظہرالدین سے کیے گئے تقریبا تمام سوالات کا تعلق میچ فکسنگ اسکینڈل اور ان پر عائد پابندی کے باوجود اس دورے پر ان کی آمد سے تھا۔
اظہرالدین کا کہنا ہے کہ ویٹرنز کرکٹ کھیلنے کے لیے انہیں بھارتی کرکٹ بورڈ کی اجازت کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ ویٹرنز کرکٹ کے لیے بھارت میں علیحدہ سے کرکٹ بورڈ موجود ہے جس کا اپنا آئین ہے۔وہ آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے تحت ہونے والے میچوں میں نہیں کھیل سکتے۔
![]() | |
| بھارت کے سابق آل راؤنڈر منوج پربھارکر بھی اس ٹیم میں شامل ہیں |
اظہرالدین کا کہنا ہے کہ تاحیات پابندی کے فیصلے کے خلاف انہوں نے حیدرآباد دکن کی عدالت میں اپیل دائر کررکھی ہے جس کا فیصلہ مئی میں متوقع ہے۔
سابق بھارتی کپتان کا کہنا ہے کہ پابندی کے دوران کا پانچ سال کا عرصہ بہت سخت رہا ہے لیکن اس عرصے میں انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ساتھ ہی وہ اپنے ہیلتھ کلب پر توجہ دیتے رہے ہیں۔
اظہرالدین کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اچھی آفر ہوئی تو وہ کسی بھی ٹی وی چینل پر بھی تبصرے کریں گے جس کے لیے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔