http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 16 April, 2006, 00:41 GMT 05:41 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ٹیم کے انتخاب کا طریقہِ کار تبدیل

پاکستانی سنوکر کھلاڑی اس سال تین بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینگے جن میں ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ اور ایشین سنوکر چیمپئن شپ کے علاوہ ایشین گیمز شامل ہیں۔

اس سال کی عالمی سنوکر چیمپئن شپ نومبر میں عمان میں منعقد ہوگی۔ اردن نے دوسال قبل ایشین سنوکر چیمپئن شپ کی میزبانی کی تھی اور اب وہ عالمی ایونٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے تاہم اسے میزبانی دیئے جانے کے وقت عالمی سنوکر فیڈریشن کے رکن ممالک نے سکیورٹی کا سوال اٹھایا تھا جس پر اردن کی سنوکر فیڈریشن نے شریک کھلاڑیوں کو سیکورٹی کی ہرممکن یقین دہانی کرائی ہے۔

گزشتہ سال ورلڈ چیمپئن شپ پاکستان میں ہونی تھی لیکن زلزلے کے نتیجے میں اسے منسوخ کرنا پڑا تھا۔

اس سال کی ایشین سنوکر چیمپئن شپ تیس جون سے سات جولائی تک کولمبو میں منعقد ہوگی۔ سری لنکا کے دارالحکومت1988 میں بھی ایشیائی چیمپئن شپ کی میزبانی کرچکا ہے۔ پاکستانی سنوکر کھلاڑی ان دونوں ایونٹس کے علاوہ دسمبر میں دوھا قطر میں ہونے والے ایشین گیمز میں بھی حصہ لینگے۔

پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن نے پاکستانی کھلاڑیوں کی غیرمستقل مزاج کارکردگی کے پیش نظر اپنی سلیکشن پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔

عام طور پر ورلڈ چیمپئن شپ میں پاکستان کی قومی رینکنگ کے نمبر ایک اور نمبر دو حصہ لیتے ہیں جبکہ ایشین چیمپئن شپ میں حصہ لینے والے دو کھلاڑی قومی چیمپئن شپ کے فائنلسٹس ہوتے ہیں۔

لیکن اب ایسوسی ایشن نے قومی رینکنگ کے بجائے کھلاڑیوں کا انتخاب بین الاقوامی مقابلوں کے وقت ان کی فارم کے مطابق کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ قومی مقابلوں اور بین الاقوامی ایونٹس کے درمیان کافی وقت ہوتا ہے اور قومی مقابلوں کی بنیاد پر انٹرنیشنل ایونٹ کے لئے منتخب ہونے والے کھلاڑی عالمی مقابلے کے وقت فارم میں نہیں ہوتے لہذا ایسوسی ایشن کسی ایک چیمپئن شپ کے بجائے مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرے گی۔