Saturday, 08 April, 2006, 01:37 GMT 06:37 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کینڈی
سری لنکا کے خلاف ون ڈے کے بعد ٹیسٹ سیریز کی جیت نے پاکستانی کپتان انضمام الحق کو اس لیے بھی مطمئن کردیا ہوگا کہ بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد ان کی کپتانی پر کافی تنقید ہورہی تھی حالانکہ ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت اور انگلینڈ سے ہوم ٹیسٹ سیریز جیتی تھیں اور اس سے بھی پیچھے مڑ کر دیکھیں تو بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف انہی کے دیس میں ٹیسٹ سیریز برابر کرنا مذاق نہ تھا۔
پانچ ناقابل شکست ٹیسٹ سیریز میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ متعدد مواقع پر ٹیم مشکل پوزیشن سے نکل کر میچ جیتی یا ڈرا کرنے میں کامیاب ہوئی، جس سے اس کی موجود فائٹنگ سپرٹ کا پتہ چلتا ہے۔
پاکستانی ٹیم کا اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے کیونکہ اب اس کی کرکٹ ایشیائی وکٹوں سے باہر ہونے والی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے جس آسانی سے انگلینڈ کو اپنے میدانوں پر رنز کے انبار لگاکر زیر کیا انگریز ٹیم اپنے ماحول اور وکٹوں پر ترنوالہ ثابت نہیں ہوگی اگرچہ بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرنے کے بعد وہ جس طرح ون ڈے سیریز میں بے بسی کی تصویر بنی ہے وہ حیران کن ہے لیکن انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرانے کے لیے پاکستانی ٹیم کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔
حالیہ میچوں میں پاکستان کی بیٹنگ میں انفرادی کارکردگی کا عنصر غالب رہا ہے۔ انگلینڈ کے دورے میں جہاں موسم اور وکٹیں بولرز کے لیے موافق ہوتی ہیں پاکستانی بیٹسمینوں کو بڑا اسکور فراہم کرنے کے لیے اجتماعی طور پر غیرمعمولی کارکردگی دکھانی ہوگی۔
عمران فرحت اور شعیب ملک کی اوپننگ جوڑی پر کپتان انضمام الحق کا اعتماد پختہ ہوچکا ہے لیکن عمران فرحت کو نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد عجلت پسندی ترک کر کے خود کو بڑی اننگز کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ کولمبو اور کینڈی دونوں ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے اپنی غلطی سے وکٹ گنوائی۔ انگلینڈ کے مخصوص موسم میں جہاں گیند سوئنگ ہوتی ہے عمران فرحت کو اپنے بیٹ اور جذبات دونوں کو قابو میں رکھنا ہوگا۔
![]() | |
| سری لنکا کے دورے میں شعیب اختر کی غیرموجودگی میں محمد آصف ہیرو بن کر ابھرے |
سابق کپتان رمیز راجہ کو ڈر ہے کہ طویل بولنگ کرانے سے محمد آصف کا کریئر خطرے سے دوچار نہ ہوجائے جیسا کہ فاسٹ بولر محمد زاہد کے ساتھ ہوا تھا۔
انگلینڈ کے دورے میں فٹ شعیب اختر کی موجودگی ٹیم کے لیے ضروری ہے۔ بدقسمتی سے محمد سمیع خراب کارکردگی کے سبب ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ عمر گل فٹ ہوکر ٹیم میں واپس آئے ہیں لیکن ان کی گیندوں میں وہ کاٹ نظر نہیں آئی جبکہ شبیراحمد بولنگ ایکشن کے مسئلے سے ہی نکل نہیں پارہے ہیں۔ان حالات میں رانانوید الحسن عبدالرزاق اور محمد آصف ہی پاکستانی بولنگ اٹیک کو سنبھالے ہوئے ہونگے۔
![]() | |
| نضمام اور باب ولمر کو اس ٹیم کو تقریبا حتمی شکل دے دینی ہوگی جو ورلڈ کپ میں میدان میں اترے گی |
پچھلے کئی ماہ سے مسلسل کھیلتے ہوئے سلیکٹرز، کپتان اور کوچ کو یہ اندازہ تو ہوگیا ہوگا کہ ورلڈ کپ کے لیے کیا کامبی نیشن تشکیل دیا جاسکتا ہے۔