Tuesday, 28 March, 2006, 20:37 GMT 01:37 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان ہاکی فیڈریشن نےدولت مشترکہ کھیلوں کے ہاکی فائنل میں آسٹریلوی کھلاڑی کو ہاکی مارنے والے پاکستانی فارورڈ طارق عزیز کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری بریگیڈئر ریٹائرڈ مسرت اللہ خان کے مطابق طارق عزیز کے اس رویے سے نہ صرف ملک کے وقار کو نقصان پہنچا ہے بلکہ فائنل میں پاکستان کو دس کھلاڑیوں سے کھیلنے کے سبب شکست کا سامنا رکنا پڑا۔
بریگیڈئر مسرت اللہ نے کہا کہ پہلے مرحلے میں سزا کے طور پر طارق عزیز کو یکم اپریل سے ورلڈ کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاری کے لیے لگائے گئے کیمپ میں نہیں بلایا جا رہا اور دوسرے مرحلے میں طارق کا معاملہ نظم و ضبط کی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا اور وہ طے کرے گی کہ طارق عزیز کو مزید کیا سزا دی جائے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری نے کہا کہ اگر چہ پاکستان کی ٹیم نے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں چاندی کا تمغہ حاصل کیاہے لیکن وہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم کی کارکردگی کا معیار بڑھانے کی کافی ضرورت ہے اور اس کے لیے ٹیم مینیجمنٹ کو بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی ہاکی ٹیم چھ اپریل کو چین کے شہر بیجنگ کے لیے روانہ ہو رہی ہے جہاں وہ عالمی کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں شرکت کرے گی۔ اس کے لیے اسلام آباد میں کیمپ کا آغاز یکم اپریل سے ہو گا اور بریگیڈئر مسرت اللہ کے مطابق کیمپ کے لیے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان 29 مارچ کو کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے سابق اولمپیئنز نے بھی طارق عزیز کو دی جانے والی سزا کو صحیح قرار دیا ہے۔ پاکستان ٹیم کے سابق کپتان منظور جونیئر کا کہنا ہے کہ طارق عزیز کی اس حرکت سے ٹیم کو نقصان پہنچا اور دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے سبب پاکستان کی ٹیم دباؤ کا شکار ہوئی اور ہار گئی۔
انہوں نے کہا کہ طارق عزیز نے اس ٹورنامنٹ میں پہلے بھی ایسے رویے کے سبب دو میچز کی پابندی کی سزا کاٹی لیکن انہیں عقل نہیں آئی اور دوبارہ انہوں نے مینیجمنٹ کے سمجھانے کے باوجود وہی غلطی کی اب اسے درست کرنے کے لیے سزا کی ضرورت تھی۔
سابق اولمپئن نوید عالم کے مطابق طارق ایک اچھا کھلاڑی ہے اور اسے ٹیم سے نکالنا نہیں چاہیے البتہ اسے سبق سکھانے کے لیے جرمانے کی سزا ضرور ہونی چاہیے۔