عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے تسلیم کیا ہے کہ اتوار کو کراچی میں ہونے والے پانچویں اور آخری ون ڈے میں ان پر بہت زیادہ دباؤ ہوگا۔اگرچہ وہ سیریز ہار چکےہیں لیکن ان کی پوری کوشش ہوگی کہ جیت سے اعتماد بحال کیا جائے۔ان کے حریف کپتان راہول ڈراوڈ بھی جیت پر دورے کو ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
سابق پاکستانی کرکٹرز کے تنقیدی طوفان کے بارے میں انضمام الحق کہتے ہیں کہ پچھلے ڈیڑھ دو سال سے ٹیم اسی بیٹنگ آرڈر کے ساتھ کامیابی حاصل کرتی آئی ہے۔
اس عرصے میں یہ پہلی سیریز ہاری ہے۔ بحیثیت کپتان اتنے لوگوں کی رائے پر عمل کرنا ان کے لیئے بہت مشکل ہے۔
اب انضمام کی باری ہے |
انضمام الحق نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ سیریز میں سپر سب کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپر سب کا فائدہ ٹاس جیتنے والی ٹیم کو ہی ملتا ہے اسی لیئے وہ اس بات کے حق میں رہے ہیں کہ ٹاس کے بعد سپر سب کھلاڑی کا انتخاب کیا جائے۔
پاکستانی کپتان کے مطابق آخری دو میچوں میں ٹاس اہم تھا لیکن دونوں ٹیموں کے درمیان بنیادی فرق فیلڈنگ کا رہا۔
بھارتی کپتان راہول ڈراوڈ کہتے ہیں کہ دورے کے چند دن بہت مشکل رہے لیکن کراچی ٹیسٹ ہارنے کے باوجود ان کی ٹیم کو خود پر بہت زیادہ اعتماد تھا۔
ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد تنقیدوں کا رخ ان کی طرف تھا لیکن اب پاکستانی ٹیم اس کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ برصغیر میں یہ عام سی بات ہے کہ ایک دن آپ ہیرو ہیں لیکن شکست سب کچھ بھلادیتی ہے۔
بھارتی کپتان اس تاثر کو رد کرتے ہیں کہ بھارتی ٹیم صرف ون ڈے کی اچھی سائیڈ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے مقابلے میں ون ڈے میں آپ کے پاس کئی راستے ہوتے ہیں اور صورتحال کے مطابق آپ فیصلے کرتے ہیں اور تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔
سیریز میں باؤنڈریز چھوٹی ہونے کے بارے میں راہول ڈراوڈ کہتے ہیں کہ اس سے اسپنرز کا کردار ختم ہوکر رہ گیا ہے حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ میں اسپنرز کا کردار بہت اہم ہے اس سلسلے میں انیل کمبلے، ہربھجن سنگھ، شین وارن اور مرلی دھرن کی مثالیں سامنے ہیں لیکن باؤنڈری چھوٹا کرنا انہیں ختم کرنے کے مترادف ہے۔
راہول ڈراوڈ سپر سب کے قانون کے سلسلے میں انضمام الحق جیسے خیالات رکھتے ہیں کہ سپر سب کا فیصلہ ٹاس کے بعد ہونا چاہئے۔