عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستانی بالروں نے بھارتی بیٹنگ آرڈر تہس نہس کرتے ہوئے میچ جیت لیا ہے۔ بھارت کے آخری کھلاڑی یوراج سنگھ تھے جنہیں عبدالرزاق نے آؤٹ کیا۔ ان کی بہت دباؤ میں بنائی گئی سنچری بھی بھارتی ٹیم کے کام نہ آسکی۔
اس طرح تین ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز پاکستان نے صفر ایک سے جیت لی ہے۔ لاہور اور فیصل آباد میں ہونے والے دونوں ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگئے تھے اور اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ سیریز بورنگ ہے اور تماشائیوں کو کھیل سے دور کر رہی ہے ۔ لیکن کراچی میں ہونے والے آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے بولر اور بیٹسمین دونوں ہی کھیل پر حاوی رہے اور اس طرح پاکستان یہ میچ ایک بڑے سکور یعنی 341 رنز سے جیت گیا۔
![]() | |
| یونس خان فتح کی خوشی میں |
پہلی اننگز میں چار وکٹوں کی قابل ذکر کارکردگی کے بعد محمد آصف نے دوسری اننگز میں بھی تین وکٹوں کی زبردست پرفارمنس دی جبکہ عبدالرزاق اس میچ کے سب سے قیمتی کھلاڑی ثابت ہوئے جنہوں نے پہلی اننگز میں 45 اور دوسری اننگز میں 90 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے علاوہ پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم مین آف دی میچ کامران اکمل اہم موقع پر سنچری بنانے کے سبب قرار پائے۔
![]() | |
| آصف کی گیند پر سچن کے آؤٹ ہونے کے ساتھ ہی بھارت کے میچ کو بچانے کے چانس کم ہو گئے |
پاکستانی بولروں کی گیندوں کا سامنا مہمان بیٹسمینوں کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا۔ پہلے ہی اوور میں شعیب اختر کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں ڈراوڈ کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد آصف کی گیندوں پر وریندر سہواگ، لکشمن اور سچن تندولکر آؤٹ ہو گئے۔
74 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد سوروگنگولی اور یوراج سنگھ کی بیٹنگ اننگز میں ٹھہراؤ لے آئی لیکن ان کی103 رنز کی عمدہ شراکت کو عبدالرزاق نے توڑکر بھارتی ڈریسنگ روم کی مایوسی میں اضافہ کردیا۔ انہوں نے چائے کے وقفے کے بعد پہلی ہی گیند پر سوروگنگولی کو37 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے پرنس آف کلکتہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔
![]() | |
| کامران اکمل مین آف دی میچ قرار پائے |
دانش کنیریا جن کی پہلی اننگز میں کپتان کو ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی انیل کمبلے کو سلپ میں عمران فرحت کے ہاتھوں کیچ اور ظہیر خان کو بولڈ کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد عبدالرزاق نے سنچری میکر یوراج سنگھ کو کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرا کر پاکستان کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کردی۔
اس سے قبل یونس خان نے پاکستان کی اننگز599 رنز7 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی جو نیشنل اسٹیڈیم پر کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔ فیصل اقبال 139 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ عبدالرزاق دس رنز کی کمی سے چوتھی ٹیسٹ سنچری مکمل نہ کرسکے۔
دوسری اننگز کی خاص بات پاکستان کے ابتدائی سات بیٹسمینوں کا پچاس سے پچاس سے زائد سکور کرنا تھا۔ اس طرح انہوں نے نصف سنچریاں بنا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
![]() | |
| ڈراوڈ کے لیے کراچی ٹیسٹ میچ بہت کٹھن ثابت ہوا |
بھارت کی طرف سے انیل کمبلے سب سے کامیاب بالر رہے جنہوں نے 37 اوور میں 151 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پرتاب سنگھ، ظہیر خان ، یووراج سنگھ اور عرفان پٹھان نے اس اننگز میں پاکستان کے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستانی ٹیم
سلمان بٹ، عمران فرحت، یونس خان، محمد یوسف، فیصل اقبال، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، کامران اکمال، شعیب اختر، دانش کنیریا، محمد آصف۔
بھارتی ٹیم
وریندر سہواگ، راہول ڈراوڈ، وی وی ایس لکشمن، سچن تندولکر، سوورو گنگولی، یوراج سنگھ، مہندر سنگھ دھونی، عرفان پٹھان،ظہیر خان، انیل کمبلے، آر پرتاب سنگھ۔