Saturday, 07 January, 2006, 12:44 GMT 17:44 PST
سکواش کے سابق عالمی چیمپئن جہانگیرخان نے کہا ہے کہ ان کی تمام کامیابیوں کے پیچھے ان کے والد روشن خان کا ہاتھ ہے اور ’ آج ان کے انتقال کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سیکھنے کا عمل رک گیا ہے‘۔
جہانگیر خان جو ورلڈ سکواش فیڈریشن کےصدر بھی ہیں، بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ والد کے جانے کے بعد وہ اپنی زندگی میں ایک خلاء محسوس کر رہے ہیں۔
ان کی علالت کے بارے میں جہانگیر خان نے بتایا کہ روشن خان دو ہزار چار سے ہی کوما میں تھے۔ اس کے ساتھ ان کی صحت بھی دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی تھی۔
روشن خان کے کھیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ اس وقت لوگوں میں کھیلنے کا جذبہ ہوا کرتا تھا اور انہوں نے روشن خان کے کھیل کے حوالے سے جو باتیں سنی ہیں تو یقین نہیں آتا کہ کتنی جدوجہد سے انہوں نے یہ مقام حاصل کیا تھا۔
’آج ہم اس طرح کی کوشش کرنا چاہیں بھی تو پانچ فیصد بھی اس قسم کا کھیل نہیں کھیل سکتے۔ جو محنت اور جذبہ میں نے ان میں دیکھا تھا وہ میں نےآج تک کسی میں نہیں دیکھا‘۔
انہوں نے بتایا کہ وہ پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دو بھائی نصراللہ خان اور گلشن خان جبکہ دو بہنیں تھیں۔
جہانگیر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کیرئر کا آغاز پاکستان نیوی سے کیا تھا۔
’جب وہ ورلڈ چمپئین بنے تھے تو پاکستان نیوی ہی کی طرف سےگئے تھے۔ اس وقت سے اپنے آخری دم تک وہ پاکستان نیوی سے ہی وابستہ رہے‘۔
انہوں نے بتایاکہ نیوی نےایک کلب پی این فلیٹ کلب کے نام سے موسوم کیا ہوا ہے۔ وہاں روشن خان جہانگیر خان سکواش کلب ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی کلب سے انہوں نے بھی اسکواش کھیلنی شروع کی تھی۔
روشن خان شروع سے آخر تک اسی کلب سے منسلک رہے۔ کبھی کبھی وہ ٹینس اور سنوکر بھی کھیلا کرتے تھے۔ ویسے کھیلوں کے حوالے سے ہر کھیل میں انہیں دلچسپی تھی لیکن تین کھیل سکواش، ٹینس اور سنوکر پابندی سے کھیلتے تھے۔
جہانگیر نے بتایا کہ لباس کا وہ بہت خیال رکھتے تھے اس کے علاوہ وہ اچھے کھانےکے بھی شوقین تھے اور وہ بہت منظم زندگی گزارتے تھے۔ بچوں کوڈانٹتے تھے۔
سیاست کی خبروں سے انہیں دلچسپی تھی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان ان کے پسندیدہ سیاست دان تھے۔
دینی کتابیں شوق سے پڑھتے تھے خاص طور پر آخری دنو ں میں قرآن کا ترجمہ پڑھا کرتے تھے۔ پسماندگان میں انہوں نے ایک بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔