Friday, 30 December, 2005, 10:29 GMT 15:29 PST
پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا ہے کہ اگلے ماہ ہونے والی سیریز میں انڈیا کے بیٹسمینوں کو پریشان کرنے کے لیے ایسی وکٹ بنائی جائیں جن پر گیند زیادہ اچھلے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب ایک بالکل بدلے ہوئے شعیب اختر ہیں جو کے سخت پچز پر انڈیا کے بیٹسمینوں کو ہلا کے رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنی تیز اور بہترین بولنگ سے شعیب انڈیا کے کسی بھی بیٹسمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور سورو گنگولی سے بہتر ان کا کوئی شکار نہیں ہو سکتا۔
دنیا کے تیز ترین بولر شعیب اختر نے انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں سترہ وکٹ حاصل کیے تھے۔ یہ سیریز پاکستان دو صفر سے جیت گیا تھا۔
ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں بالترتیب چار سو چودہ اور پانچ سو دو وکٹ حاصل کرنے والے وسیم اکرم نے کہا کہ ایک سال پہلے کی نسبت پاکستان اب زیادہ منظم ہے اور سن 2004 کی ملک میں شکست کا بدلہ لے سکتا ہے۔ ’لیکن اس کے لیے انہیں مثبت کھیل پیش کرنا ہو گا‘۔
وسیم نے پاکستان کے کوچ بوب وولمر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وولمر دنیا کے صفِ اول کے کوچ ہیں، انہوں نے پاکستان ٹیم میں لڑنے کی صلاحیت اور ہم آہنگی پیدا کر دی ہے جو کہ دو سال قبل پاکستان ٹیم میں نہیں تھی‘۔
آخری مرتبہ پاکستان 1984 میں بھارت سے اپنے ہی ملک میں کرکٹ ٹیسٹ سیریز جیتا تھا اور وسیم اکرم کا خیال ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ممکن ہے۔