Wednesday, 21 December, 2005, 17:29 GMT 22:29 PST
فراز ہاشمی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام راولپنڈی
پاکستان کے تیز رفتاربالر شعیب اختر نے انضمام الحق کے بارے میں کہا ہے کہ وہ چھتیس سال کے ہو گئے ہیں اور اس عمر میں انجریز آتی رہتی ہیں۔
راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف آخری ایک روزہ میچ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آخری ایک روزہ میچ میں انضمام الحق کی غیر موجودگی سے یقیناً فرق پڑا اور پاکستان اس میچ میں فتح حاصل نہیں کر سکا۔
شعیب اختر نے کہا کہ انضمام الحق پاکستا ن کے میچ جیتنے والے کھلاڑی ہیں اور ان کی عدم موجودگی سے فرق پڑتا ہے۔
انگلینڈ کے خلاف سیریز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم اس دورہ کے بعد متحد ہوکر ایک اکائی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیریز میں پاکستان نے بھر پورکامیابی حاصل کی ہے اور ٹیسٹ اور ایک روزہ میچ دونوں میں انگلینڈ کو ہرایا ہے۔
ا نہوں نے کہا کہ ٹیم بہت محنت کر رہی ہے جس کا اندازہ چوتھے میچ میں بالنگ سے لگایا جا سکتا ہے۔ آخری ایک روزہ میچ میں شکست کے بارے میں انہوں نے کہاکہ فضا میں کہر کو وجہ سے آخر میں بلے بازوں کو گیند ٹھیک طرح نظر نہیں آ رہی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آخری ٹیسٹ میچ کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ایڑی میں چوٹ کی وجہ سے آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف کھیلے اور انہوں نے ایک روزہ میچوں کی سیریز میں سات وکٹیں حاصل کیں۔
بھارتی ٹیم کے دورے کے بارے میں ایک سوال پر ا نہوں نے کہا کہ ٹیم پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں اس وقت مکمل اتحاد اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور دوستی کا کلچر پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں میں باہم برداشت پیدا ہوئی ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ گئے ہیں۔