Tuesday, 06 December, 2005, 20:03 GMT 01:03 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے آف سپنر اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اوپننگ بیٹس مین کے طور پر کھیلنے والے شعیب ملک منگل کے دن آسٹریلیا روانہ ہو گئے۔
شعیب ملک آٹھ تاریخ کو آسٹریلیا کے بائیو مکنیکس کے ماہر ڈاکٹر بروس ایلیٹ سے اپنا معائنہ کروائیں گے۔
شعیب ملک ایک بار پھر ملتان ٹیسٹ میچ کے دوران مشکوک بالنگ ایکشن کے اعتراض کی زد میں آ گئے۔ اس سے پہلے ان پر اکتوبر سال 2004 میں بھی اعتراض کیا گیا تھا اور ویسٹرن یونیورسٹی میں ان کا مکمل معائنہ کیا گیا تھا جس میں وہ کلیئر ہو گئے تھے۔
شعیب ملک آئی سی سی کے پندرہ ڈگری کے خم والے نئے قانون کے تحت پہلی مرتبہ شکایت کی زد میں آئے ہیں۔
اب آٹھ دسمبر کو نہ صرف ان کا جسمانی معائنہ کیا جائے گا بلکہ ملتان ٹیسٹ کی ویڈیو کا بھی آسٹریلوی ماہرین جائزہ لیں گے اور شعیب ملک کی رپورٹ آئی سی سی کو حتمی فیصلے کے لیے دے دی جائے گی۔
شعیب ملک جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف لاہور میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے پاکستان کی جیت کی بنیاد رکھی پر امید ہیں کہ وہ اس ٹیسٹ میں کلیئر ہو جائیں گے۔
شعیب ملک نے کہا ہے کہ ان کے بال پھینکنے کے زاویے میں کوئی نقص نہیں البتہ ان کی کہنی میں ایسا نقص ہے جس کی وجہ سے ان کا بالنگ ایکشن مشکوک دکھائی دیتا ہے۔
شعیب ملک آٹھ دسمبر کو اپنا چیک اپ کروا کر نو دسمبر کو واپس آ جائیں گے جانے سے پہلے ان کا کہنا تھا کہ وہ انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے لیے دستیاب ہوں گے اور اگر ٹیم کی انتظامیہ انہیں ایک روزہ میچوں میں بھی اوپننگ کے لیے بھیجے گی تو وہ ضرور کھیلیں گے۔
یاد رہے کہ جب کوئی کھلاڑی پہلی مرتبہ مشکوک بالنگ ایکشن کی زد میں آئے تو وہ اکیس دن تک کھیل سکتا ہے اور اس دوران وہ خود کو کلیئر کروانے کے لیے معائنہ بھی کروا سکتا ہے۔
آسٹریلوی ماہرین ایک ہفتے میں اپنی رپورٹ آئی سی سی کو بھجوا دیں گے اورآئی سی سی جلد ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کو شعیب کے مستقبل کے بارے میں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دے گی۔
شعیب ملک کے بر عکس شبیر احمد کا کیس زیادہ پریشان کن ہے۔
شبیر احمد جو کہ انگلینڈ کی ٹیم کی آمد سے چند دن پہلے ہی آسٹریلوی ماہرین سے معائنہ کروانے کے بعد کلیئر ہوئے تھے وہ اس بار خود نہیں جا سکتے بلکہ ماہرین ملتان ٹیسٹ میں ان کی بالنگ کی ویڈیو کا اس ویڈیو سے موازنہ کریں گے جس کی بناء پر وہ کلیئر ہوئے تھے۔ اگر ان کی ملتان ٹیسٹ میں باؤلنگ پندرہ ڈگری کے خم سے متجاوز ہوئی تو ان پر آئی سی سی کے قانون کے مطابق فوری پابندی لگ جائے گی۔
شبیر احمد کی ویڈیو آسٹریلیا بھجوائی جا چکی ہے اور ان کی قسمت کا فیصلہ نو یا دس دسمبر تک متوقع ہے۔