Wednesday, 16 November, 2005, 11:46 GMT 16:46 PST
ملتان میں انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دے کر کپتان انضام الحق اس لیے بھی بہت خوش ہیں کہ انہوں نے اس ٹیسٹ سیریز کے دوران اپنے آبائی شہر میں برتری حاصل کر لی ہے۔
انضمام کی ٹیم اس میچ پر اپنی گرفت کھو چکی تھی لیکن آخری دن وہ میچ میں واپس آئی اور انگلینڈ کی نو وکٹیں گرا کر اس نے سیریز میں برتری حاصل کر لی۔
انضمام کا کہنا ہے ’ہمیں پتہ تھا کہ ٹوٹل کچھ بھی ہو، پانچویں دن اس پچ پر کھیلنا مشکل ہوگا۔ ہم نے سوچا کہ ہم انگلینڈ پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے۔ بالروں نے اچھی لائن اور لینتھ کے ساتھ گیندیں کیں اور ابتدا ہی میں ہمیں تین وکٹیں مل گئیں جس سے ہمیں یقین ہوگیا کہ ہم یہ میچ جیت سکتے ہیں۔‘
انضمام کا کہنا تھا’میچ کے آخری دن ہماری ٹیم نے جس طرح کی کارکردگی دکھائی میں اس سے بہت خوش ہوں۔ یہ ٹیم نوجوانوں کی ٹیم ہے اور لڑکوں میں لڑنے کا جذبہ ہے۔‘
دانش کنیریا جنہوں نے دوسری اننگز میں باسٹھ رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں، کہتے ہیں کہ ان کی بالنگ دونوں اننگز میں مختلف تھی۔ پہلی اننگز میں انہوں نے ایک سو چھ رنز دے کر صرف ایک وکٹ لی تھی۔
’مجھے پہلی اننگز میں مزا نہیں آیا۔ وکٹ بہت سست تھی اور بلے بازوں کے لیے میری گیندیں کھیلنا مشکل نہیں تھا لیکن آخری دن وکٹ میرے لیے مددگار بن گئی اور میں نے وکٹیں لیں۔‘
دانش کنیریا کا کہنا تھا کہ اس جیت کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کا حوصلہ کافی بلند ہوگا کیونکہ انگلینڈ نے دنیا کی نمبر ون ٹیم آسٹریلیا کو کامیابی سے شکست دیا ہے۔
شاہد آفریدی کو ٹیم میں شامل نہ کئے جانے کے بارے میں سوال پر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یہ آسان فیصلہ ہرگز نہ تھا کیونکہ حسن رضا کو جس نے حالیہ میچوں میں بڑا اسکور کیا تھا باہر رکھنا ممکن نہ تھا۔