http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 15 November, 2005, 06:34 GMT 11:34 PST

انگلینڈ: فتح کیلیے مزید 174 درکار

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ملتان میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر چوبیس رن بنائے ہیں۔

میچ کے آخری دن انگلینڈ کو جیتنے کے لیے مزید 174 رن کی ضرورت ہے جبکہ اس کی نو وکٹیں باقی ہیں۔

تفصیلی سکور کارڈ کے لیے یہاں کلک کریں

اس وقت اینڈریو سٹراس سات اور این بیل بارہ رن کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے واحد کھلاڑی مارکس ٹریسکوتھک تھے جو پانچ رن بنا کر شبیر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم چائے کے وقفے کے بعد تین سو اکتالیس رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔اس طرح انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لیے ایک سو اٹھانوے رن کا ہدف ملا۔

چوتھے دن کے کھیل میں لنچ کے بعد انگلینڈ کے بالروں نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے چار پاکستانی وکٹیں حاصل کیں جبکہ پاکستانی بلے باز اس دوران مجموعی سکور میں صرف 76 رن کا اضافہ کر سکے جبکہ چائے کے وقفے کے بعد پاکستان کی مزید چار وکٹیں گریں۔

انگلینڈ کی جانب سے فلنٹاف نے چار، ہارمیسن نے تین، ہوگارڈ نے دو اور جائلز نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی کامران اکمل تھے جو 33 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔پہلی اننگز میں نصف سنچری بنانے والے پاکستانی اوپنر سلمان بٹ نے دوسری اننگز میں سنچری بنائی۔ وہ ایک سو بائیس رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کے لیے انضمام الحق اور سلمان بٹ کے درمیان ایک سو پینتیس رن کی پارٹنر شپ ہوئی تاہم اس کے بعد پاکستان کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گر گئیں۔

حسن رضا ایک رن بنا کر فلنٹاف کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ محمد یوسف نے سولہ رن بنائے۔ انہیں بھی فلنٹاف نے ہی آؤٹ کیا۔ کپتان انضمام الحق نے میچ میں اپنی دوسری نصف سنچری مکمل کی۔ وہ بہتّر رن بنا کر ہوگارڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ شعیب اختر جو ایشلے جائلز جبکہ شبیر احمد کو ہارمیسن نے آؤٹ کیا۔

منگل کو کھیل کے آغاز پر جب پاکستان نے تیسرے دن کے سکور ایک سو پچیس رن، دو وکٹ پر بیٹنگ کا آغاز کیا تو نائٹ واچ مین محمد سمیع جلد ہی تین کے انفرادی سکور پر اینڈریو فلنٹاف کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے تھے۔

اس وقت پاکستان کو سکور ایک سواکتیس رن تھا۔ سمیع کے بعد کپتان انضمام الحق نے سلمان بٹ کے ساتھ مل کر چار رن فی اوور کی اوسط سے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔

پاکستان۔ انضمام الحق( کپتان) سلمان بٹ۔ شعیب ملک۔ یونس خان۔ محمد یوسف۔ حسن رضا۔ کامران اکمل۔ محمد سمیع۔ دانش کنیریا۔ شبیراحمد اور شعیب اختر

انگلینڈ۔ مارکس ٹریسکوتھک( کپتان) اینڈریو اسٹراس۔ کیون پیٹرسن۔ ایئن بیل۔ پال کالنگ ووڈ۔ اینڈریو فلنٹوف۔ ایشلے جائلز۔ اسٹیو ہارمیسن۔ میتھیو ہوگرڈ اور گیرائنٹ جونز۔