Tuesday, 15 November, 2005, 17:23 GMT 22:23 PST
رفعت جاوید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز تیز بالر جوئل گارنر کا کہنا ہے کہ اگر دنیائے کرکٹ کے موجودہ کرکٹرز میں سے انہیں ایک ٹیم تشکیل دینے کے لئے کہا جائے تو اس میں فاسٹ بالرز شعیب اختر اور بریٹ لی دونوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فاسٹ بالنگ میں تیز رفتاری ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔
اس انٹرویو کے دوران بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے کرکٹ کی دنیا کی ایک ممتاز شحصیت اور عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز سے بھی بات کی۔
شعیب اور لی کے بارے میں گارنر کا کہنا تھا،
"مجھے نہیں لگتا کہ شعیب اور بریٹ لی میں سے کوئی بھی میری ٹیم میں شامل ہونے کے لائق ہیں۔
"مجھے اپنی ٹیم میں ایک ایسا بالر چاہئے جو وکٹ لینے کا اہل ہو۔ مجھے ایسا بالر چاہئے جو مستقل مزاج ہو اور وہ نہیں جسے ہمیشہ تیز رفتاری کی فکر ہو۔"
پچھلی صدی میں اسی کی دہائی سے قبل جب ویسٹ انڈیز کے بالرز دنیائے کرکٹ میں دہشت پھیلا رہے تھے تو ان بالرز میں جوئل گارنر کا نام نمایاں تھا۔
انہوں نے صرف اٹھاون ٹیسٹ میچوں میں دو سو انسٹھ وکٹ لئے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی کامیابی کے پیچھے صرف تیز رفتاری کا دخل نہیں تھا۔
گارنر کا کہنا تھا،
"اس دور میں ہمیں ہمیشہ یہ فکر ہوتی تھی کہ میدان پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیسے کیا جائے، ہم میں سے کوئی بھی تیز رفتاری کے بارے میں ذرا بھی فکر مند نہیں ہوتا تھا۔
واضح رہے کہ عالمی کرکٹ کی تاریخ میں ایک سو میل فی گھنٹے کی رفتار سے گیند پھینکنے کا اعزاز سب سے پہلے شعیب اختر نے حاصل کیا تھا۔
یہ کارنامہ انہوں نے کیپ ٹاؤن میں دو ہزار تین کے ورلڈ کپ کے دوران انگلینڈ کے خلاف انجام دیا تھا۔
گارنر نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت آسٹریلیا کے گلین مگرا دنیا کے سب سے بہترین تیز بالر ہیں۔
" باوجود اس کے کہ وہ عمر میں سب سے بڑے ہیں، وہ سب سے کامیاب بالر رہے ہیں۔
دوسری جانب سر گیری سوبرز کے مطابق ساؤتھ افریقہ کے مکھایا نتینی اس وقت دنیا کے سب سے کامیاب بالر ہیں۔
انہوں نے کہا،
"نتینی میں وکٹ لینے کی صلاحیت ہے اور بڑی تیزی سے وکٹ لے بھی رہے ہیں۔ جہاں لوگ شعیب اختر اور بریٹ لی کے موازنے میں مصروف ہیں، وہاں نتینی کی کاکردگی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ان کے لئے میرے دل میں بہت عزت ہے۔"
فاسٹ بالنگ کے حوالے گارنر کا مزید کہنا تھا۔
" یہ ایک المیہ ہے کہ کرکٹ کے شائقین اور مبصرین ایک لمبے عرصے سے صرف اس مباحثے میں پڑے ہیں کہ سب سے تیز بالر کون ہے جو میرے خیال میں بالکل غیر ضروری ہے۔
سوبرز اور گارنر دونوں نے ہی کہا کہ صلاحیت کے اعتبار سے پاکستان کی ٹیم دنیا کی سب سے بہترین ٹیم ہے لیکن اس ٹیم کے کھلاڑیوں میں ٹیم سپرٹ کا فقدان ہے۔
" ہم دونوں نے ہی پاکستان کے خلاف متعدد میچیز کھیلے ہیں۔ ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس ٹیم میں دنیا کی کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے کھلاڑی ٹیم کے لئے کم اور اپنے لئے زیادہ کھیلتے ہیں۔"
جب سوبرز سے یہ پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں برائن لارا اور سچن تندولکر میں سے بہتر بیٹسمین کون ہے تو ان کا جواب تھا،
"آپ مجھے بڑی مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لارا میرا عزیز کھلاڑی ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں ان کی پرفارمنس سچن سے بہتر رہی ہے۔
" لیکن میں ایک مرتبہ پھر سے یہیں کہوں گا کہ صرف ان دونوں کے درمیان بہترین بیٹسمین کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ کوئی اس موازنے میں پاکستان کے کپتان انضمام الحق کا نام کیوں لیتا۔ ایک بیٹسمین کی حیثیت سے ان کی کارکردگی کو نظر انداز کیوں کیا جاتا ہے؟"
سوبرز نے کہا کہ ویسٹ انڈیز میں منعقد ہونے والا دو ہزار سات کا ورلڈ کپ انتہائی کامیاب ہوگا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اس ورلڈ کپ میں کرکٹ کی پچز بیٹسمن اور بالرز دونوں کے تقاضوں کے مطابق بنائی جائیں گی۔