Sunday, 13 November, 2005, 19:07 GMT 00:07 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ملتان
انضمام الحق اور شعیب اختر کے سرد تعلقات کی ایک اور مثال ملتان ٹیسٹ کے پہلے دن اس وقت سامنے آئی جب کھیل ختم ہونے کے بعد پاکستانی کپتان نے فاسٹ بولر کو گراؤنڈ میں ایک ٹی وی چینل کے لیے انٹرویو ریکارڈ کراتے دیکھا تو انہیں ڈریسنگ روم سے آواز دے کر اپنے پاس بلالیا اور کہا ’یہ کیا کررہے ہو؟‘
اس بحث میں کوچ باب وولمر بھی شریک ہوگئے۔ دونوں کو اس بات پر اعتراض تھا کہ چونکہ کوئی بھی کھلاڑی بغیر اجازت انٹرویو نہیں دے سکتا لہذا شعیب بھی ایسا نہیں کرسکتے۔اس پر شعیب نے ان سے کہا کہ وہ کرکٹ بورڈ کی اجازت سے غیرمتنازعہ انٹرویو دے سکتے ہیں جس کے بعد وہ ڈریسنگ روم سے باہر آگئے۔
اس سیریز کے دوران انضمام الحق نے بھی ایک ٹی وی چینل سے روزانہ تبصرہ کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ شعیب اختر سے معاہدہ کرنے والے ٹی وی چینل کا تعلق بھی دبئی سے ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے موقع پر کسی میڈیا افسر کا تقرر نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے مقامی صحافیوں کو کھلاڑیوں کے انٹرویو کے سلسلے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ کھیل کے اختتام پر کسی پاکستانی کھلاڑی کی کوئی باقاعدہ پریس کانفرنس نہیں ہوتی جبکہ دوسری جانب انگلینڈ کا کوئی نہ کوئی کرکٹر روزانہ اپنے میڈیا مینیجر کے توسط سے میڈیا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔