Thursday, 10 November, 2005, 15:57 GMT 20:57 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام راولپنڈی
بیشتر مبصرین اور سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی یہ رائے ہے کہ عبدالرزاق اگر اپنے ٹیلنٹ کا بھرپور مظاہرہ کرتے تو انہیں ایک ورلڈ کلاس آل راؤنڈر کے طور پر یاد کیا جاتا لیکن کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کے سبب وہ اپنے ٹیلنٹ سے انصاف نہیں کر پائے ہیں۔
عبدالرزاق جب پاکستان کرکٹ ٹیم میں آئے تو اسوقت اظہرمحمود آل راؤنڈر کی حیثیت سے ٹیم میں موجود تھے لیکن اظہر محمود کے ساتھ بھی کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کا مسئلہ درپیش رہا اور عبدالرزاق ٹیم کے نمبر ایک آل راؤنڈر کے طور پر سامنے آگئے۔
عبدالرزاق ابتدائی پندرہ ٹیسٹ اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں ہی بنا سکے تھے جبکہ بولنگ میں صرف ایک اننگز میں چار وکٹیں ان کے حصے میں آئی تھیں۔ یہ کارکردگی کسی طور قابل ذکر نہ تھی۔
پاکستان کے دورے پر آنے والی ناصر حسین کی انگلینڈ ٹیم کے خلاف فیصل آباد ٹیسٹ میں عبدالرزاق نے یہ جمود پہلی ٹیسٹ سنچری کے ساتھ توڑا اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف ملتان اورڈھاکہ ٹیسٹ میں بھی وہ تین ہندسوں کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔
بیٹنگ میں عبدالرزاق کی ایک اور عمدہ کارکردگی بھارت کے خلاف موہالی ٹیسٹ میں رہی جس میں کامران اکمل کے ساتھ ان کی شراکت نے بھارت کی جیت کے خواب بکھیر دیئے۔
عبدالرزاق کی بولنگ بھی اتارچڑھاؤ کا شکار رہی ہے کبھی ان کی گیندوں میں بہت کاٹ دکھائی دیتی ہے تو کبھی وہ غیرموثر ثابت ہوتے ہیں۔
ٹیسٹ کے مقابلے میں عبدالرزاق ون ڈے میچوں میں زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ خاص کر ان کی آخری اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کئی مرتبہ پاکستان کے لئے بڑے اسکور تک پہنچنے کا سبب بنی ہے۔
عبدالرزاق کو یہ گلہ ہے کہ ماضی میں کپتانوں نے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا کبھی بولنگ دی کبھی نہیں دی جس سے ان کا اعتماد متزلزل ہوا۔
موجودہ کپتان انضمام الحق کو عبدالرزاق پر بے پناہ اعتماد ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں انہیں مایوس نہیں کریں گے۔