Friday, 28 October, 2005, 12:35 GMT 17:35 PST
آسٹریلیا کے خلاف انگلینڈ کی اچھی کارکردگی کی وجہ سیلیکشن کے عمل میں ایک تسلسل کا برقرار رہنا ہے۔ چار تیز بولروں کے اٹیک نے انگلینڈ کی فتوحات میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم عبدالرزاق کے بازو کی چوٹ کے باعث انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے باہر ہونے سے یہ پتہ چلتا ہے پاکستان تیز بولروں کا تسلسل قائم رکھنے میں ناکام رہا ہے۔
بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہے کہ عظیم بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس کے ٹیسٹ کرکٹ کو خیر آباد کہہ دینے کے بعد سے اب تک پاکستان نے بولنگ میں صحیح توازن برقرار رکھنے کی سرتوڑ کوشش کی ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے۔
وقار اور وسیم کی جوڑی وقار یونس ٹیسٹ: 87 وکٹیں: 373 اوسط: 23.56 وسیم اکرم ٹیسٹ: 104 وکٹیں: 414 اوسط: 23.62 |
لیکن وقار یونس کے جنوری 2003 میں آخری میچ کے بعد سے پاکستان نے دس تیز بولر استعمال کیے ہیں اور اس کے نتائج بہت حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر آصف اقبال کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر ٹیم کو کسی نہ کسی مرحلے پر تیز بولرز کے مسائل ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کو کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے مسائل تھے لیکن آخری سیریز میں سب کھلاڑی فٹ تھے اور ’آپ خود نتائج دیکھ سکتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پاکستان کے مسائل کھلاڑیوں کی چوٹوں سے نہیں خود کھلاڑیوں سے ہیں۔
’کئی نوجوان بولرز بغیر کسی باقاعدہ تربیت کے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں اور جب وہ بڑی کرکٹ کھیلتے ہیں تو وہ بہت دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں‘۔
آصف اقبال نے کہا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بولرز زندگی میں ایک بار آتے ہیں۔ ’وہ دنیا کے سب سے بہتر اووپنگ بولرز تھے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’سب کہتے ہیں کہ شعیب اختر دنیا کے تیز ترین بولر ہیں لیکن جب پاکستان کے لیے کھیلنے کی بات ہوتی ہے تو اپنے وعدوں پر پورے نہیں اترتے‘۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک قابل بولر ہیں اور اگر ان کے کچھ مسائل ہیں تو وہ خود اور کرکٹ بورڈ کا عملہ اس کا ذمہ دار ہے۔ ’لیکن فاسٹ بولر کے لیے اپنے آپ کو فٹ رکھنا بھی آسان کام نہیں ہے‘۔
تیس سالہ شعیب 1997 میں اپنا پہلا میچ کھیلنے کے بعد سے اب تک کل 36 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔ حالانکہ اس عرصے میں وہ کل اکہتر ٹیسٹ کھیل سکتے تھے۔