Tuesday, 25 October, 2005, 23:39 GMT 04:39 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام راولپنڈی
پچھلے دو ہفتوں سے جاری زلزلے کی امدادی ٹیموں کی غیرمعمولی آمدورفت کے بعد راولپنڈی اسلام آباد کی فضا پہلی مرتبہ کسی غیرملکی کرکٹ ٹیم کی آمد سے آشنا ہوئی ہے۔
مائیکل وان کی قیادت میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل اہم دورے پر بدھ کی علی الصبح اسلام آباد پہنچی تو انگریز کرکٹرز کے ذہنوں میں یقینی طور پر زلزلے کے اثرات دورے سے قبل پائے جانے والے سکیورٹی کے خدشات سے کسی طور کم نہیں تھے جس کی ایک جھلک ان کھلاڑیوں کو جہاز سے اترتے وقت وہاں موجود امدادی سامان کی بہت بڑی کھیپ کی صورت میں نظر میں آئی ہو۔
انگلینڈ کے کرکٹرز نے میدان میں جیت کے عزم کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے ذریعے زلزلے سے متاثرہ افراد کی مایوسی دور کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو ائرپورٹ سے باہر آتے وقت سکیورٹی کے ان کڑے اقدامات کا بھی بخوبی اندازہ ہوگیا جو اس دورے کے لئے اس کی شدید خواہش کے مطابق کئے گئے ہیں۔ گوکہ یہ انتظامات اتنے سخت نہیں تھے جو دو سال قبل جنوبی افریقی ٹیم کی آمد کے موقع پر لاہور ائرپورٹ پر نظرآئے تھے تاہم پولیس کمانڈوز کی بڑی تعداد انگلش ٹیم کو اپنے حصار میں ہوٹل پہنچانے کے لئے مستعد کھڑے تھے۔ اس موقع پر صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے انگلش سکیورٹی افسران بھی موجود تھے۔
تیز بولر اسٹیو ہارمیسن اور آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹوف اگلے ہفتے پاکستان پہنچیں گے۔
موجودہ ٹیم کے پانچ کھلاڑی مائیکل وان، ٹریسکوتھک، فلنٹوف، ہوگرڈ اور جائلز2000ء کے دورے میں بھی ٹیم میں شامل تھے۔
اگلے ایک ہفتے تک انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا قیام اسلام آباد میں ہوگا جہاں مائیکل وان کی روایتی پریس کانفرنس اور پانچ دن کی پریکٹس کے بعد مہمان ٹیم اکتیس اکتوبر سے دورے کا پہلا سہ روزہ میچ پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلنے والی ہے۔ مقامی حکام اس میدان کو آٹھ اکتوبر کو انےوالےزلزلے کے بعد محفوظ قرار دے چکے ہیں۔