Friday, 30 September, 2005, 10:01 GMT 15:01 PST
شاہد ہاشمی
اسلام آباد
مائیکل وان کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم پاکستان میں سپن کے حصار میں ہوگی کیونکہ پاکستان نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں برطانوی ٹیم زیر کرنے کے لیے اسپنرز کے ہتھیار کا انتخاب کیا ہے۔
نہ صرف کپتان انضمام الحق بلکہ کوچ باب وولمر بھی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ پاکستان دو لیگ سپنرز کے ساتھ کھیل سکتا ہے۔ نوجوان دانش کنیریا کے ساتھ تجربہ کار مشتاق احمد کی ٹیم میں واپسی متوقع ہے۔ مشتاق حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی برطانوی کاؤنٹی چیمپئن شپ میں 80 وکٹیں لے کر کامیاب ترین بالر رہے ہیں۔
انگلینڈ کے سلیکٹروں نے ’سپن کی جنگ‘ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جائلز کے ساتھ تجربہ کار سپنر شان ادال کو بھی ٹیم میں شامل کیا ہے تاکہ سپن وکٹوں کی صورت میں ٹیم کی قوت میں اضافہ کیا جا سکے۔
کیا پاکستانی ٹیم کی یہ حکمتِ عملی کامیاب ہوگی اور وہ انگلینڈ کی ٹیم کی عالمی کرکٹ میں پہلی پوزیشن کی جانب پیش قدمی روک سکے گی؟ اس کا انحصار دو چیزوں پر ہو گا۔ اوّ ل یہ کہ کیا پاکستانی گراؤنڈز مین ایسی وکٹیں تیار کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے جن پر گیند گھوم سکے اور دوم یہ کہ پاکستانی بلے باز برطانوی سپنر کو کیسے کھیلتے ہیں؟
![]() | |
| مشتاق احمد کی ٹیم میں واپسی یقینی دکھائی دیتی ہے |
پاکستان کے انگلش کو چ باب وولمر کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے ہر ٹیم حکمتِ عملی بناتی ہے اور یہ حکمتِ عملی اسے صورت میں کامیاب ہوتی ہے جب آپ کھیل کے تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی دکھائیں۔ وولمر کا کہنا ہے کہ ایشز میں جہاں شین وارن نے 40 وکٹیں حاصل کیں وہاں جائلز صرف 10 وکٹیں حاصل کر پائے۔
سپن بالروں پر انحصار کی پاکستانی حکمتِ عملی کامیاب بھی ہو سکتی ہے۔ 1987میں مائیک گیٹنگ کی قیادت میں جب برطانوی ٹیم نے پاکستان میں تین ٹیسٹ کھیلے تھے تو اس سیریز میں پاکستان کی فتح میں اہم کردار لیگ سپنر عبدالقادر کی تیس وکٹوں نے بھی ادا کیا تھا۔
![]() | |
| برطانوی ٹیم کا پیس اٹیک بہت مضبوط ہے |
باب وولمر کہتے ہیں کہ انہوں نے جب سے پاکستان کے کوچ کی ہمیشہ ہلتی ہوئی گدّی سنبھالی ہے، پاکستان نےٹیسٹ میچوں میں کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی ہے البتہ ایک روزہ میچوں میں ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی ہے اور اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وہ ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کو فیورٹ قرار دیتے ہیں۔
![]() | |
| ’یہ سیریز ریورس سوئنگ کی جنگ ہونی چاہیے‘ |
پاکستان اور برطانوی ٹیم کا پیس اٹیک ایک جیسا ہی ہے۔ پاکستان کے پاس شعیب اختر، محمد سمیع اور عمر گل ہیں تو انگلینڈ کے سٹیو ہارمیسن، ہوگارڈ فلنٹاف اور سائمن جونز آسٹریلیا کے مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو پچھاڑ چکے ہیں۔
پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ سیریز ریورس سوئنگ کی جنگ ہونی چاہیے کیونکہ دونوں ٹیموں کی قوت فاسٹ بولر ہیں لیکن انضمام اور وولمر اپنے فاسٹ بولروں کی مشکوک فٹنس کے سبب یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔