Tuesday, 06 September, 2005, 16:13 GMT 21:13 PST
قمر احمد
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان پانچواں اور آخری ٹیسٹ آنے والے جمعرات سے اوول کے تاریخی میدان میں کھیلا جائے گا اور ایشز کی قسمت کا فیصلہ بھی انگلینڈ یا آسٹریلیا کی جیت پر ہو گا۔
اسوقت ایک میچ کے مقابلے میں انگلینڈ کو دومیچوں سے برتری حاصل ہے اور ایشیز ٹرافی اٹھارہ سال بعد حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ اگر جیت نہ سکے تو میچ ڈرا کرنا ہو گا۔ آسٹریلیا کے فتح کی صورت میں ایک بار پھر ایشیز آسٹریلیا کے پاس ہو گی اور انگلینڈ کا خواب ایک خواب ہی رہ جائے گا۔
چار سنسنی خیز ٹیسٹ میچوں کے بعد یقینی طور پر مقابلہ سخت ہوگا۔ میچ کا میدان اوول ایک تاریخی حثیت رکھتا ہے اور انگلینڈ کی سرزمین پر پہلا ٹیسٹ میچ اسی گراونڈ پر 1880 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا گیا تہا جسے انگلینڈ نے پانچ وکٹوں سے جیت لیا تھا اور انگلینڈ کے ڈبلیو جی گریس نے انگلینڈ کی طرف سے ٹیسٹ میں پہلی بار سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
اٹھارہ سو بیاسی میں جب انگلینڈ کو سات رن سے آسٹریلیا کے ہاتھوں اسی میدان میں شکست ہوئی اور آسٹریلیا کے فاسٹ بالر فریڈ سپوفرتھ نے چودہ وکٹیں لیکر انگلینڈ کا جلوس نکال دیا تو ایشیز سیریز کا آغاز ہوا۔
ڈان بریڈ مین جن کی ٹیسٹ میچوں میں رن بنانے کی اوسط نناوے عشاریہ نو ہے۔ |
یوں تو زمبابوے اور بنگلہ دیش کے علاوہ تمام ٹیسٹ ٹیموں نے اس گراونڈ پر ٹیسٹ کھیلا ہے لیکن آسٹریلیا اور انگلینڈ کے مابین میچوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
انیس سو اڑتیس میں جب انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ایک اننگز اور پانچ سو اناسی رن سے شکست دی تو انگلینڈ نے سات وکٹوں کے نقصان پر نو سو تین رن بنائے تھے جن میں لین ہٹن نے تین سو چونسٹھ رن بنائے اور جب وہ آؤٹ ہوئے تو ان کی ایک مداح خاتون نے نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ہٹن کاش آپ تین سو پینسٹھ رن بناتے تاکہ سال کے ہر دن کے لیے ایک رن ہوتا۔
انیس سو باون میں یہاں انگلینّڈ نے انیس سال بعد ایشیز جیتا اور انیس سو چھپن میں پھر ایک بار آسٹریلیا کو مات دی۔انگلینڈ کے اسپنر جم لیکر نے اس سیریز میں چھالیس وکٹیں لیں اور اسی گروانڈ پر جب آسٹریلیا کی ٹیم سرے کے خلاف کھیلی تو لیکر نے آسٹریلیا کے دس کھلاڑیوں کو ایک اننگز میں آؤٹ کر دیا۔ اس سے پہلے اولڈ ٹریفرڈ کے ٹیسٹ میں لیکر نے میچ میں انیس ووکٹیں حاصل کی تھیں جو ایک عالمی ریکارڈ ہے جسے کوئی کھلاڑی برابر نہیں کر سکا۔
انیس سوچون میں پاکستان کے فاسٹ بالر فضل محمود نے آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف بارہ وکٹیں لے کر پاکستان کو پہلی بار فتح سے ہمکنار کیا اور انیس سو چوہہتر میں ظہیر عباس نے دو سو چالیس رن بنا دیے اور انیس سو بانوے میں جاوید میانداد نے دو سو ساٹھ رن بنائے۔
اوول کی تاریخ قدیم ہے اور یہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک حصہ ہے سرے کاونٹی کرکٹ کا یہ ہوم گروانڈ ہے اور پہلا کاونٹی میچ یہاں اٹھارہ سو چھالیس میں کینٹ کے خلاف کھیلا گیااور اس پراپرٹی کے مالک پرنس چارلس ہیں۔
دوسری جنگ عظیم میں یہ جنگی قیدیوں کا کیمپ بنا دیا گیا اور اسے دو مرتبہ دشمن نے نشانہ بنایا۔ لیکن اس مرتبہ ایشیز کی جنگ میں انگلینڈ کے کھلاڑی آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو قیدی تو نہیں بنا سکیں گے بلکے ان سے ایشیز کی جنگ انیس سال بعد جیتنے کی کوشش کریں گے۔