http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 20 July, 2005, 15:38 GMT 20:38 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

پاکستان اوپن چھ سال بعد کراچی میں

چھ سال کے طویل وقفے کے بعد اسکواش کے بین الاقوامی مقابلے پاکستان اوپن 24 جولائی سے 29 جولائی کراچی میں منعقد ہو رہے ہیں۔

1999 کی پاکستان اوپن کے فائنل میں انگلینڈ کے پیٹرمارشل کے ہاتھوں امجد خان کی شکست کے ساتھ بین الاقوامی اسکواش میں پاکستان کی طویل بالادستی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کراچی میں پاکستان اوپن کے انعقاد کی 19 سالہ شاندار روایت بھی دم توڑ گئی۔

پاکستان اوپن کی مقناطیسی کشش نے عالمی نمبر ایک فرانس کے تھیری لنکو سمیت عالمی رینکنگ کے متعدد صف اول کے کھلاڑیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔

پاکستان اوپن اسکواش کا کراچی میں انعقاد انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کراچی میں ٹیسٹ کھیلنے سے انکار کے تناظر میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس بارے میں پاکستان اسکواش فیڈریشن کے صدر ائرچیف مارشل کلیم سعادت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی شہر میں کسی بھی وقت ہوجاتی ہے۔

کراچی بڑا شہر ہے جہاں ایکسپو سینٹر میں ہونے والی بین الاقوامی نمائشوں میں غیرملکی سرمایہ کار اور تاجر آتے ہیں جسے اس شہر میں کاروبار کرنا ہے وہ کرے گا بہانے سو طرح کے ہوتے ہیں۔ پاکستان اوپن جیسے بڑے ایونٹ سے کراچی کو محروم نہیں رکھا جاسکتا تھا۔

پاکستان اسکواش فیڈریشن کے صدر ائرچیف مارشل کلیم سعادت کا کہنا ہے کہ فیڈریشن وسائل اور سہولتیں فراہم کرنے میں پیچھے نہیں ہے لیکن کھلاڑی پر بھی یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کتنی محنت کرتا ہے۔ کورٹ میں فیڈریشن نے نہیں کھلاڑی نے کارکردگی دکھانی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کی کوشش ہے کہ جونیئر کی طرح سینئر کھلاڑی بھی اچھے نتائج دیں جس کے لیے ان کی ٹریننگ کا مربوط پروگرام تیار کیا گیا ہے۔

پاکستان اوپن اور آنے والے دنوں میں ورلڈ ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا انعقاد بلاشبہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کی بڑی کامیابی ہے لیکن قوم جس بڑی کامیابی کی شدت سے منتظر ہے وہ ہے عالمی اعزاز ہے۔