http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 17 June, 2005, 16:36 GMT 21:36 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

جونیئر باکسنگ چیمپئن شپ

ایتھنز اولمپکس کے کوالیفائنگ مقابلوں کے بعد پہلی ایشین جونیئر باکسنگ چیمپئن شپ کی شکل میں پاکستان کو ایک اور اہم ترین بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی ملی ہے جس کا آغاز 20 جون سے کراچی کے کے پی ٹی اسپورٹس کمپلیکس میں ہورہا ہے۔

چھ روز جاری رہنے والے ان مقابلوں میں بیس ممالک کے سو سے زائد باکسرز رنگ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔

میزبان پاکستان بھارت اور قازقستان تین ایسے ممالک ہیں جو تمام گیارہ کیٹگریز میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ کرغستان اور ازبکستان کے دس دس باکسرز رنگ میں اتریں گے۔

چیمپئن شپ میں افغانستان کے باکسرز بھی شریک ہیں البتہ عراق مقابلوں سے غیرحاضر ہے۔

ایشین جونیئر باکسنگ چیمپئن شپ انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر انورچودھری کا آئیڈیا ہے جو اس سے قبل کئی بین الاقوامی مقابلے مختلف ممالک میں شروع کراچکے ہیں۔

ایشین جونیئر مقابلے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ پروفیسر انور چودھری اس بارے میں کہتے ہیں کہ اس وقت اولمپکس میں حصہ لینے والے باکسرز کی اوسط عمر بیس اکیس سال ہے ایشین جونیئر ایونٹ میں جو باکسرز حصہ لیں گے تقریبا وہی اگلے تین چار سال تک رنگ میں نظرآئیں گے اس طرح ان باکسرز کو بین الاقوامی باکسنگ کا تجربہ حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آنے والے دنوں میں اپنے مدمقابل کی صلاحیتوں کے بارے میں بھی معلومات رہیں گی۔

پروفیسر انورچودھری کا کہنا ہے کہ یورپ میں سکولوں کی سطح پر باکسنگ پہلے ہی منظم ہوچکی ہے کیونکہ جب سے باکسرز کے لیے حفاظتی تدابیر مؤثر انداز میں اختیار کرکے ان کے زخمی ہونے کے امکانات برائے نام کردیئے گئے ہیں۔

نوجوان اور نوعمر باکسرز کی دلچسپی میں غیرمعمولی اضافہ ہوچکا ہے جس کا ثبوت بین الاقوامی سطح پر ہونے والی کیڈٹ اور جونیئر چیمپئن شپ ہے۔

کراچی میں ہونے والی اس چیمپئن شپ سے ایشیائی ممالک کو بھی مستقبل کی تیاری کا اچھا موقع مل رہا ہے ۔
باکسنگ کی عالمی تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند اولمپکس میں ایشیائی ممالک کی کارکردگی اتنی ہی شاندار رہی ہے جتنی دوسرے براعظموں کی ہے۔
پاکستانی باکسرز کے بارے میں پروفیسر انورچوہدری کا کہنا ہے کہ وہ باصلاحیت ہیں پاکستان نے جونیئر ورلڈ مقابلے میں بھی کانسی کا تمغہ جیتا لیکن جب تک انہیں زیادہ سے زیادہ مقابلے نہیں ملیں گے ان کے کھیل میں نکھار نہیں آئے گا۔

انورچوہدری کہتے ہیں کہ مسائل اور وسائل کی کشمکش نے ایتھنز اولمپکس میں پاکستانی باکسرز کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا پاکستانی باکسرز کی تربیت کےلئے صدر پرویز مشرف کی اعلان کردہ ایک کروڑ روپے کی رقم سرخ فیتے کی نذر نہ ہوتی تو یہ باکسرز ان کے تیار کردہ پروگرام کے تحت تین ماہ کیوبا اور دوسرے ملکوں میں ٹریننگ حاصل کرتے۔

انورچوہدری کا کہنا ہے کہ بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی باکسرز کی اچھی کارکردگی کا انحصار وسائل پر ہوگا کہ انہیں تیاری کے کتنے مواقع میسر آتے ہیں۔