Tuesday, 14 June, 2005, 14:39 GMT 19:39 PST
انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹوینٹی ٹوینٹی کے کرکٹ مقابلے میں شاندار فتح کے بعد کہا ہے کہ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ اس کا اثر آنے والی سیریز پر ہو گا۔
روز باؤل میں ہونے والے میچ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو سو رنز سے ہرا دیا تھا۔
وان نے کہا کہ ’ٹوینٹی ٹوینٹی کی اپنی پہلی گیم میں میں صرف ایک گیند کھیل سکا، لیکن ٹیم نے بہتر کرکٹ کا مظاہرہ کیا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک لاٹری کی طرح ہے۔ آپ کو خوش قسمتی کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم کو یہ مل گئی۔ تماشائی بھی زبردست تھے۔ لیکن میرے خیال میں اس کا اثر پانچ روزہ میچوں پر نہیں ہو گا‘۔
آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ نے انگلینڈ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انگلینڈ کی ٹیم بہت اچھا کھیلی اور زبردست بولنگ کی، لیکن ہماری طرف سے اچھے کھیل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ اس طرح کا ٹوٹل حاصل کرنے کے لیے ہٹس لگانی پڑیں گی اور جہاں بھی ہم نے ہٹ لگائی وہ سیدھی فیلڈر کے ہاتھ میں گئی‘۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک دلچسپ کھیل تھا۔ ’تماشائی اس سے محظوظ ہوئے۔ لیکن اس میں ہمارے لیے کچھ زیادہ مزہ نہیں تھا‘۔
![]() بریٹ لی کو تین اوورز میں اکتیس رنز پڑے |
انگلینڈ نے بیس اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 179 رنز بنائے تھے۔ انگلینڈ کی طرف سے کولنوڈ نے 46، ٹریسکوتھک نے 41، اور کیون پیٹرسن نے 34 رنز بنائے تھے۔
اس کے بعد جب آسٹریلیا کی باری آئی تو ایسا ہوا جو گزشتہ کئی سالوں سے آسٹریلیا کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ صرف سات گیندوں میں آسٹریلیا کے چار بیٹسمین آؤٹ ہو گئے اور صرف 14.3 اوورز میں ساری کی ساری ٹیم 79 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جونز اور ٹریسکوتھک کو اوپنر بھیجا۔ جونز نے جاتے ہی تیز کھیلنا شروع کر دیا اور کھیل کے آغاز میں ہی چار چوکے لگائے۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ کی تباہی کے آغاز کا سہرا فاسٹ بولر ڈیرن گوہ کے سر رہا۔ انہوں نے شروع ہی میں دو گیندوں پر ایڈم گلکرسٹ اور میتھیو ہیڈن کو آؤٹ کر دیا۔ وہ تیسری گیند پر اپنی ہیٹ ٹرک مکمل نہ کر سکے۔
میچ کے بعد انہوں نے کہا کہ ’ہیٹ ٹرک پر میں نے شارٹ گیند کروائی کیونکہ مجھے لگا کہ ہر کوئی سوچ رہا ہو گا کہ میں یارکر کروں گا‘۔