Monday, 14 March, 2005, 20:47 GMT 01:47 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کولکتہ
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عبدالرزاق کی بیگم کرکٹ سے اتنی زیادہ واقفیت نہیں رکھتیں لیکن جب موہالی ٹیسٹ میں عبدالرزاق وکٹ کیپر کامران اکمل کے ساتھ اپنی ٹیم کو شکست سے بچانے میں مصروف تھے تو وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ٹی وی پر میچ دیکھ رہی تھیں اور اسے کہتی جارہی تھیں کہ اپنے پاپا سے کہو کہ آرام سے کھیلیں اور آؤٹ نہ ہوں۔
جب عبدالرزاق میچ کے بعد ہوٹل گئے تو ان کی بیٹی نے بتایا کہ امی اور وہ دعائیں مانگ رہے تھے امی بار بار صرف یہی کہہ رہی تھیں کہ پاپا سے کہو کہ وکٹ پر ٹھہریں اور آؤٹ نہ ہوں۔
عبدالرزاق یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ صرف ون ڈے کے اچھے کھلاڑی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں ایک طرح کی ہی کرکٹ ہے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹمپرامنٹ درکار ہوتا ہے۔ ایڈم گلکرسٹ کی بیٹنگ دیکھیں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ون ڈے کی طرح کھیلتا ہے۔
عبدالرزاق کہتے ہیں کہ انہیں سابق کرکٹرز کی طرف سے ان پر ہونے والی تنقید پر بہت افسوس ہوتا ہے پتہ نہیں کہ وہ تنقید کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے وہ حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔
موہالی ٹیسٹ کے بارے میں عبدالرزاق کہتے ہیں کہ یہ ڈرا دراصل ٹیم کی جیت ہے کیونکہ چوتھے دن بڑی مایوسی تھی اور میچ بچانا بہت ہی مشکل نظرآرہا تھا۔
کامران اکمل نے شاندار اننگز کھیلی لیکن جب وہ بیٹنگ کررہا تھا تو انہیں بہت ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں وہ آؤٹ نہ ہوجائے کیونکہ وہ جارحانہ انداز میں بیٹنگ پسند کرتا ہے لہذا انہوں نے کامران کو سمجھایا کہ وکٹ پر تمہاری موجودگی بہت ضروری ہے خیال سے کھیلو اور جذباتی نہ ہو۔