Wednesday, 09 February, 2005, 18:03 GMT 23:03 PST
ایمپائر بلی باؤڈن نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یا ان کے ساتھی ایمپائروں نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں کی حالیہ سیریز میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی اپیلوں سے متاثر ہو کر فیصلے کیے ہیں۔
وہ پاکستان کے کوچ باب وولمر کے اس الزام کا جواب دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آسٹریلوی ٹیم کی اپیلوں کو زیادہ سنا گیا ہے۔
باب وولمر نے کہا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی اپیلوں کا مقصد ایمپائروں پر زیادہ دباؤ ڈالنا تھا۔
تاہم باؤڈن نے کہا کہ ’باب کو رائے رکھنے کا حق ہے، لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے ایک اچھی ٹیسٹ اورون ڈے سیریز میں شرکت کی ہے‘۔
آسٹریلیا نے پاکستان کو تینوں کے تینوں ٹیسٹ میچوں میں شکست دی ہے اور ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے ساتھ سہہ فریقی ٹورنامنٹ بھی جیت لیا ہے۔
باؤڈن نے اس بات پر اصرار کیا کہ ہوم کراؤڈ اور زیادہ اپیلیں ایمپائر کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ایک کھلاڑی اپیل کرتا ہے کہ گیارہ کھلاڑی، مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں، اور نہ ہی تماشائیوں کی کیونکہ ان کے جوش میں آنے سے پہلے ہی میں اپنا فیصلہ لے چکا ہوتا ہوں‘۔
آسٹریلوی کوچ جان بکانن نے وولمر کے بیان کو ایمپائروں کی بے عزتی کہا ہے۔