Thursday, 27 January, 2005, 19:45 GMT 00:45 PST
جان ہارمر
انگلینڈ کی خواتین کی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ
آسان الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ گیند بولر کے ہاتھ سے نکل کر بلے باز تک پہنچنے کے عرصے میں اپنا راستہ اسی صورت میں بدلتی ہے جب اس کی سطح کے گرد ہوا مختلف رفتار سے گزرے۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کے گیند آگے بڑھنے کے لیے ہوا کو اطراف میں دھکیلتی ہے۔
آپ اگر اس بات پر غور کریں کہ ہوائی جہاز ہوا میں کیسے بلند ہوتے ہیں یا سمندر میں کشتی کیسے آگے بڑھتی ہے یا پھر آپ کاغذ کے ایک پرزے کو ہاتھ سے چھوڑیں اور پھر اس کے ایک سرے پر پھونک ماریں۔
آپ کاغذ کو اوپر کی جانب جاتے دیکھیں گے۔ یہ اس لیے ہوا کہ کاغذ کی نچلی جانب ہوا معمول کی رفتار سے چل رہی تھی جب پھونک ماری گئی تو تیز ہوا کا ایک جھونکا کاغذ کی اوپری سطح سے ٹکرایا اور وہ تیز ہوا کے ریلے میں اڑ گیا۔
![]() وقار یونس ریورس سوئنگ کے ماہر سمجھے جاتے تھے |
گیند کی ایک سطح چمکدار اور دوسری کھردری کہلاتی ہے۔
گیند کو ریورس سوئنگ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے پنتالیس یا اس سے زیادہ اوورز کرائے جا چکے ہوں۔
جب گیند سے پانچ اوور کرائے جا چکے ہوتے ہیں تو بالر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ گیند کی کس سطح کو چمکانا ہے۔گیند کی دوسری سطح کھردری رکھی جاتی ہے جس پر سے ہوا تیزی سے گزرتی ہے۔ جس کے نتیجے میں گیند ہوا میں اپنا رخ تبدیل کر لیتی ہے۔
جیسے جیسے گیند پرانی ہوتی جاتی ہے چمکدار سطح کھردری جبکہ کھردری سطح مزید کھردری ہو جاتی ہے اور ہوا کم کھردری سطح کی جانب سےگزرنے لگتی ہے۔نتیجتاً گیند خود بخود مخالف سمت میں سوئنگ ہونا شروع کر دیتی ہے۔