Thursday, 06 January, 2005, 13:34 GMT 18:34 PST
پالک کو دیکھ کر ناک چڑہانے والے بچوں کو اکثر ماں باپ یہ کہتے ہیں کہ اگر پالک کھاؤ گے تو بڑے ہو کر پوپائے دی سیلر مین کی طرح طاقت ور بن جاؤ گے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عبدالرزاق نے ماں باپ کی اس نصیحت پر کچھ زیادہ ہی عمل کرنا شروع کر دیا ہے اور پالک کے علاوہ کچھ اور کھانا چھوڑ دیا ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف میلبورن ٹیسٹ میں تیسرے ٹیسٹ کے دوران عبدالرزاق کو قے، سر چکرانے اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت ہو گئی تھی۔
گو کہ انہوں نے اس میچ کی دوسری اننگز میں بیٹنگ کی لیکن وہ تیسری اور آخری ٹیسٹ کے لیے کلی طور پر صحتیاب نہیں ہو سکے اور اس میں انہیں آرام کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
عبدالرزاق کو ایک سال قبل نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران بھی اس قسم کی شکایت ہو گئی تھی اور انہیں ایک طبی ماہر نے پالک استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
![]() ایک روزہ میچوں کے لیے عبدالرزاق مکمل طور پر فٹ ہیں |
تاہم پاکستانی کرکٹ کے ٹیم مینیجر ہارون رشید نے پالک کی وجہ سے عبدالرزاق کی بیماری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’یہ سب فضول باتیں ہیں۔ اس کا (پالک کا) رزاق کی بیماری میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بیمار تو کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ ایسی باتیں کرنا اچھا نہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں اب مذاق سے پوپائے دی سیلر مین کہنا شروع کر دیا ہے۔
ذاکر کو اب عبدالرزاق کے بہت زیادہ پالک کھانے پر تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ تاہم پاکستانی ٹیم کے ڈاکٹر ڈیرئن لفسن کا کہنا ہے کہ عبدالرزاق کو وائرل انفکشن ہے کیونکہ ان کی کسی ٹیسٹ اور سکین میں ان کی بیماری کی تشخیص نہیں ہو سکی ہے۔
لفسن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا آنے سے ان کی خوراک تبدیل ہوگئی۔ یہ بری یا اچھی نہیں ہوئی بلکہ بدل گئی۔
ہارون رشید عبدالرزاق کی صحتیابی کے بارے میں پر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق کو جسمانی تربیت دی جارہی اور وہ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کھیلنے کے لیے مکمل طور پر صحتیاب ہو جائیں گے۔