http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 05 January, 2005, 23:44 GMT 04:44 PST

کھیل کھیل میں امدادی فنڈز

ورلڈ فارمولہ ون چیمپیئن مائیکل شوماکر نے ایشیا میں سونامی سانحہ کے لیے 10 ملین ڈالر کا عطیہ دیا ہے ۔

شوماکر نے کہا کہ’ اس سال نئے سال کی صبح ہمارے لیے پُرمسرت نہیں تھی ہمیں اس سانحہ کے شکار لوگوں سے پوری ہمدردی ہے۔ جرمنی کی حکومت نے 25 جنوری کو ایک امدادی میچ کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

بھارت کی فٹبال اتھارٹی نے بھی ایک چیرٹی میچ کے اہتمام کا فیصلہ کیا ہے ۔
فیڈریشن کے صدر پریہ رنجن داس منشی نے بتایا کہ فیڈریشن نے فٹبال کے عالمی انتظامی ادارے فیفا سے بھی امدادی میچ کرانے کی اپیل کی ہے ۔

جرمن نیشنل فیڈریشن اینڈ لیگ نے فوری طور پر ایک ملین پاؤنڈ کی امداد دی ہے اس کے علاوہ پریمئیر شپ فٹبال کلب نے پہلے ہی امدادی کاموں میں مدد کی پیشکش کی ہے ۔

مانچیسٹر یونائیٹڈ نے بھی ایک لاکھ پاؤنڈ کا عطیہ دیا ہے ۔

سمندری طوفان سونامی کے سانحہ میں اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔امریکہ میں باسکٹ بال کے سات کھلاڑیوں نے عہد کیا ہے کہ وہ جمعرات کے گیمز میں اسکور ہونے والے اپنے ہر پوائنٹ پر ایک ہزار ڈالر کا عطیہ دیں گے۔

ان کھلاڑیوں میں ٹریسی میک گریڈی ، کوب برائینٹ اور جالین روس شامل ہیں۔

جالین روس کا کہنا ہے کہ مزید کھلاڑیوں کو اس بارے میں معلوم ہو رہا ہے اور وہ بھی اس میں شامل ہو جائیں گے ۔

روس کا کہنا تھا کہ اب تک مختلف بحرانوں میں امدادی کاموں کے بارے میں کئی بار سننے میں آتا رہا ہے کہ مستحق لوگوں تک امداد نہیں پہنچی لیکن اس معاملے میں یونیسیف اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایسا نہ ہو۔

کرکٹ بھی اس معاملے میں دوسرے کھیلوں سے پیچھے نہیں ہے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے بھی فنڈز جمع کرنے کے لیے میچوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے سڈنی میں آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ سے پچاس ہزار پاؤنڈ جمع ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ انٹر نیشنل اولمپکس کمیٹی نے ایک ملین ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں چننئی اوپن ٹینس ٹورنا منٹ کے کھلاڑیوں نے اپنی آمدنی امدادی کاموں میں لگانے کا اعلان کیا ہے ۔