Thursday, 05 August, 2004, 20:44 GMT 01:44 PST
مناء رانا
لاہور
آسٹریلیا کے سابق کپتان شہرہ آفاق بیٹسمین گریک چیپل کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ باب وولمر ٹیم کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
گریک چیپل جو کہ آج کل پاکستان میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت دے رہے ہیں نے کہا اگرچہ باب وولمر کو پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کرنے کے لیے بہت کم وقت ملا ہے لیکن اس کے باوجود ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں قابل ذکر تبدیلی آئی ہے جو کہ ایک بہت اچھی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ باب وولمر کی تقرری بطور کوچ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ ۔گریگ چیپل نے کہا کہ اسے پتہ چلا ہے کہ پاکستان کے نئے کوچ فیلڈنگ اور کھلاڑیوں کے عمومی رویہ پر خاص توجہ دے رہے ہیں جو کہ ہمیشہ پاکستان کا کمزور شعبہ رہا ہے۔
گریک چیپل جس نے ایک دفعہ کہا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو کوچنگ کی نہیں جذبے کی ضرورت ہے۔
گریگ چیپل کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی اپنی سوچ پر قائم ہیں۔اور ایسا ممکن نہیں کہ کوئی اس سطح پر کسی ٹیم میں فوری تبدیلی لے آئے۔
گریک چیپل نے کہا کہ اس سطح پر کوچنگ کا مطلب یہ ہے کہ ٹیم میں جذبہ پیدا کیا جائے اور اسے منطم بنایا جائے اور پاکستان کے نئےکوچ اس میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔
گریک چیپل کا کہنا ہے کہ جو کرکٹر خاص طور پر بیٹسمین ٹیسٹ میچ کھیلنے کی سطح تک پہنچ جاتا ہے اس میں یقیناّ ٹیلنٹ ہوتا ہے اور وہ کھیلنا جانتا ہے۔
اسے صرف ایسے مشورے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے اس کی سمت متعین ہو سکے اور وہ اپنے کھیل میں بہتری لا سکے۔گریک چیپل کے بقول ہر کھلاڑی کی اپنی تینیک ہوتی ہے۔
گریک چیپل نے کہا کہ اگر پاکستانی ٹیم مکمل طور پر پیشہ ورانہ سوچ اپنائے اور خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط بنائے تو یہ صف اول کی ٹیم کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلین کے دنیائے کرکٹ پر راج کرنے کے درپردہ ان کی پیشہ ورانہ سوچ ہی ہے۔
گریک چیپل نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی بے پناہ تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اکیڈمی کے سیٹ اپ اور اس میں موجود سہولتوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔
اور ایسی اکیڈمی کی موجودگی میں وہ دن دور نہیں لگتا کہ پاکستانی کرکٹ آسمان کی بلندیوں کو نہ چھو سکے۔تاہم انہوں نے پھر زور دے کر کہا کہ اس کے لیے ہر کرکٹر کو انفرادی سطح پر محنت کرنا ہو گی۔