Thursday, 03 June, 2004, 16:51 GMT 21:51 PST
پاکستان اور زمبابوے کے درمیان اکتوبر میں ہونے کرکٹ سیریز مشکلات کا شکار ہو گئی ہے ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو زمبابوے کے بارے میں عالمی کرکٹ کونسل کے فیصلے کا انتظار ہے۔
پروگرام کے مطابق زمبابوے نے اس سال اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔
زمبابوے میں کرکٹ کا بحران پندرہ سفید فام کھلاڑیوں کی بغاوت کے بعد شروع ہوا۔ سفید فام کھلاڑیوں کو ٹیم کے چناؤ کے طریقے پر اعتراض تھا۔
پچھلے مہینے آسٹریلیا نے زمبابوے میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس بحران کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ زمبابوے کے ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ، یعنی ٹیسٹ سٹیٹس ختم کر دیا جانا چاہیے۔
آ
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ نے زمبابوے سے ٹیسٹ کا درجہ واپس لینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ زمبابوے اور بنگلہ دیش کو ترقی کا موقع دیا جانا چاہیے۔
رمیز راجہ نے کہا کہ اگر زمبابوے نے اکتوبر میں دورہ نہ کیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو مالی نقصان ہو گا۔
رمیز راجہ نےکہا کہ اتنے تھوڑے وقت میں اس دورے کا متبادل ملنا مشکل ہے۔
زمبابوے نے سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا جس سے ٹیم کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی۔زمبابوے نے وکٹ کیپر ٹٹییا ٹائیبو کو نیا کپتان مقرر کیا ہے۔