Sunday, 09 May, 2004, 11:38 GMT 16:38 PST
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف برطانیہ میں تین اکیڈمیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے جن کا مقصد متوسط طبقے کے ایشیائی گھرانوں کے نوجوانوں کو کرکٹ کی تربیت دیں گے۔
راشد لطیف دو ہزار سے کراچی میں ایک اکیڈمی چلا رہے ہیں۔ برطانیہ میں ایشیائی کرکٹ کے منتظمین نے راشد سے کہا ہے کہ وہ لندن، لوٹن اور برمنگھم میں ایسی ہی اکیڈمیاں تشکیل دینے میں ان کی مدد کریں۔
پینتیس سالہ راشد لطیف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میں نے گزشتہ ہفتے برطانیہ کا دورہ کیا اور ایشیئن کرکٹ کے لیڈران سے ملاقات کی جن کی یہ خواہش تھی کہ برطانوی نوجوانوں کی تربیت اور مدد کے لئے بھی ایسی ہی اکیڈمیاں بنائی جائیں‘۔
اگرچہ ان اکیڈمیوں کی اولین ترجیح برطانوی ایشیئن نوجوان ہوں گے لیکن یہاں ان تمام نوجوانوں کی مالی مدد بھی کی جائے گی جو دیگر اداروں میں کرکٹ کی تربیت حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اِن نئی اکیڈمیوں میں آنے والوں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی البتہ انہیں مدد فراہم کرنے کے لئے مختلف کارپوریٹ اداروں اور حکومت پر انحصار کیا جائے گا۔
راشد لطیف نے بتایا کہ ’ہم لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ غریب لوگ بھی کرکٹ کھیل سکیں۔ ہم برطانیہ کی مشہور کمپنیوں اور کھیلوں کے وزیر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ اِنڈور اور آؤٹ ڈور مراکز کا حصول ممکن بنایا جا سکے‘۔