پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان لاہور میں کھیلے جارہے دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستانی بالرز جمعرات کو بھارتی کھلاڑیوں کو دوسری اننگز میں جلد آؤٹ کر کے سیریز برابر کرنے کی کوشش کریں گے۔
گزشتہ روز جب کھیل ختم ہوا تو بھارت نے اپنی دوسری اننگز میں ایک سو اننچاس رنز بنائے تھے اور اس کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ ابھی بھارت کی ٹیم 53 رنز کے خسارے میں ہے۔
پاکستانی بولرز کی عمدہ کارکردگی اپنی جگہ اہم لیکن میزبان ٹیم کو جیت کی راہ پر لانے میں پاکستان کی بیٹنگ نے کلیدی کردار ادا کیا۔
![]() کرکٹ کے حامی تماشائی |
کراچی سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ عاصم کمال نے گزشتہ سال اسی قذافی اسٹیڈیم میں اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز 99 رنز کی شاندار بیٹنگ سے کیا تھا۔
لیکن دو ٹیسٹ میچوں میں قابل ذکر پرفارمنس کے باوجود وہ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔
اس میچ میں انہیں عبدالرزاق کی جگہ کھیلنے کا موقع ملا جس کو انہوں نےبیٹنگ کے ایک اور خوبصورت مظاہرے سے یادگار بنادیا۔
بھارت کی طرف سے عرفان پٹھان نے ایک بار پھر بڑی عمدہ بولنگ کی اور 26 گیندوں کے سپیل میں صرف 11 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
بالاجی بھی متاثرکن کارکردگی کے ساتھ تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
پاکستان کی 202 رنز کی واضح برتری اس کے بولرز کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کافی ثابت ہوئی۔
پہلا وار شعیب اختر نےچوپڑہ کی وکٹ کی صورت میں کیا یہ زخم اسوقت گہرا ہوگیا جب کپتان ڈریوڈ بغیر گیند کھیلے رن آؤٹ ہوئے اور سچن ٹنڈولکر کو محمد سمیع نے ایل بی ڈبلیو کردیا۔
![]() لاہور ٹیسٹ |
ملتان ٹیسٹ کے ٹرپل سنچری میکر سہواگ تین ہندسوں کی ایک اور شاندار اننگز سے صرف 14 رنز کے فاصلے پر ہیں۔
ضرورت سے زیادہ اپیلیں کرنے کی پاداش میں میچ ریفری کی جانب سے جرمانے کی زد میں آنے والے وکٹ کیپر پارتھی پٹیل 13 رنز پران کا ساتھ دے رہے ہیں۔ہونی کو انہونی میں بدلنے کے لئے بھارتی ٹیم سہواگ پر نظریں جمائے بیٹھی ہے۔
میچ کے چوتھے دن پاکستانی بولرز کو ابتدا ہی سے اٹیکنگ حکمت عملی کے ساتھ درست لائن پر گیندیں کرنی ہونگی۔