اخبار میں پڑھا کہ لاہور میں قیام کے دوران ہندوستانی ٹیم کو کھانا پیش کرنے سے قبل کسی کو چکھایا جاتا تھا تاکہ کھلاڑیوں کو کوئی زہر دیکر مار نہ دے۔
اسلام آباد میں دونوں ٹیمیں میریئٹ ہوٹل میں ٹھہری ہیں۔ یہاں ماحول کافی نارمل اور سکیورٹی تھوڑی کم ہے تو سوچا کہ معلوم کیا جائے کرکٹ اور کرکٹرز کی خاطر یہاں کس کو بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ باقی چیزوں کی طرح تاریخ پر بھی میری کوئی گہری نظر تو نہیں لیکن بچپن میں یہی پڑھا تھا کہ یہ احتیاط شاہی گھرانوں میں برتی جاتی تھی۔
گھر کی دال |
دال!! میرے خیال میں تو ہندوستانی کھلاڑیوں کو میریئٹ ہوٹل پر ہتک عزت کا دعوی کردینا چاہیے۔
سچن کی جاسوسی |
شاید یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔
ادھر پاکستانی کھلاڑیوں کا مذہب کی جانب رجحان ماشاءاللہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کل میں پنڈی سٹیڈیم پہنچا تو دیکھا کہ تمام کھلاڑی وضو کر رہے ہیں اور پھر انہوں نے میدان کے بیچوں بیچ با جماعت نماز ادا کی۔ میرے خیال میں تو نماز کی اتنی پابندی قابل ستائش ہے۔ لیکن آپ صحافیوں کو نہیں جانتے، وہ ہر کام میں چاہے کتنا ہی نیک کیوں نے ہو، کوئی نہ کوئی مقصد ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے کئی صحافیوں کو کہتے سنا کہ میدان میں باجماعت نماز در اصل تصویر بنوانے کا بہانہ ہے ۔
میں نے پوچھا کہ انہیں ایسا کیوں لگا تو جواب تھا کہ غیر ملکی دوروں پر:
ہم نے شیخ کو کہیں وقت اذاں دیکھا ہے
یہ مگر ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں دیکھا ہے
ہو سکتا ہےکہ شعر غلط ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ان کا الزام بھی ۔۔۔
ہر گھڑی تیار کامران |
جاتے جاتے ایک بات اور بتادوں۔ کل جب پنڈی سٹیڈیم میں پریکٹس سیشن دیکھنے کے لئے داخل ہو رہے تھے تو رائٹرز کے نامہ نگار کو کہتے سنا کہ پاکستانی فوج یا کم سے کم وہ فوجی جو کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں تعینات تھے، بہت مہذب اور نرم گو تھے۔
یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ پھر پاکستان میں فوج زیادہ مقبول کیوں نہیں؟ کیا پاکستانی گھر کی مرغی کو دال برابر سمجھتے ہیں؟ یا گھر کی دال کو مرغی کے برابر سمجھتے ہیں اور اسی لئے ہندوستانی کھلاڑیوں کے لئے دال کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے؟