نسیم شاہ اور شاہین آفریدی: کیا یہ انگلینڈ میں کھیلنے والا سب سے غیر مؤثر پاکستانی بولنگ اٹیک ہے؟

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جاوید برکی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم سب سے کمزور تھی جس نے 1962 میں انگلینڈ کا دورہ کیا تھا اور جسے پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں چار صفر کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ کچھ لوگوں کےخیال میں سب سے کمزور ٹیم 1978 کی تھی جس نے وسیم باری کی قیادت میں انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔

گذشتہ تمام ٹیسٹ سیریز کے مقابلے انگلینڈ کا موجودہ دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کو کمزور یا ناتجربہ کار کہنا درست نہ ہوگا خاص کر اس کی بیٹنگ لائن کو دیکھتے ہوئے جس میں اس وقت تینوں فارمیٹس کے کامیاب بلے باز بابراعظم موجود ہوں۔

یہ وہی ٹیم میں جس کی کپتانی ٹرپل سنچری میکر اور ٹیسٹ میچوں میں چھ ہزار رنز بنانے والے اظہر علی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اولین ٹیسٹ اور اولین ون ڈے انٹرنیشنل میں سنچریوں کے منفرد اعزاز کے مالک عابد علی ٹیم کے اوپنر ہیں۔

چھٹے نمبر پر بیٹنگ کر کے سب سے زیادہ نو سنچریوں کے ورلڈ ریکارڈ ہولڈر اسد شفیق بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

ماضی کی ناکامیوں سے سنبھل کر ٹیم میں اپنی جگہ پکی کر لینے والے اوپنر شان مسعود اور فائٹنگ سپرٹ سے مالا مال محمد رضوان بھی گیارہ میں جگہ رکھتے ہیں۔

تو ایسی صورت میں اس ٹیم کو کس طرح ناتجربہ کار یا کمزور کہا جاسکتا ہے؟

یاسر کے بغیر یہ بولنگ اٹیک کچھ بھی نہیں۔ پاکستانی بولنگ اٹیک میں دو سو سے زیادہ وکٹوں کے مالک یاسر شاہ نمایاں ہیں۔

انگلینڈ کی کنڈیشنز سے مطابقت رکھنے والے مدھم رفتار کے محمد عباس بھی ٹیسٹ کرکٹ میں سو وکٹوں کے قریب پہنچنے والے ہیں۔

ان دونوں کی موجودگی میں دو نوجوان بولرز شاہین آفریدی اور نسیم شاہ بے پناہ توقعات کے ساتھ بولنگ اٹیک کا حصہ بنے جنھیں ایکسائٹنگ بولرز کے طور پر پیش کیا جاتا رہا اور کارکردگی سے زیادہ ان کی کم عمری اور روشن مستقبل کے چرچے ہوتے رہے۔

لیکن اس چار رکنی بولنگ اٹیک کی کارکردگی تین ٹیسٹ میچوں میں سب کے سامنے ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تیسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن ہی اس بولنگ اٹیک کی کہانی ختم ہوچکی تھی کیونکہ اس نے انگلینڈ کو پہلی اننگز میں ہی اتنا بڑا سکور کروا دیا کہ اس کے دباؤ تلے دب کر پاکستانی ٹیم کو فالو آن پر مجبور ہونا پڑا۔

انگلینڈ کے خلاف موجودہ سیریز میں اگر پاکستانی بولرز کو انگلینڈ کی دوسری اننگز میں بولنگ نہ کرنی پڑی تو وہ مجموعی طور پر انگلینڈ کی صرف 29 وکٹیں حاصل کر پائے ہیں جن میں صرف اکیلے یاسر شاہ کی 11 وکٹیں شامل ہیں۔

محمد عباس اور شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں صرف 5، 5 وکٹیں آئی ہیں اور نسیم شاہ کا غیرمعمولی ٹیلنٹ انھیں صرف 3 وکٹیں دلوا سکا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا یہ بولنگ اٹیک انگلینڈ کی ٹیم کو پوری سیریز میں صرف ایک مرتبہ ہی آل آؤٹ کرسکا۔ خیال رہے کہ دوسرے ٹیسٹ کا بیشتر حصہ بارش کے باعث متاثر ہوا تھا۔

1962 اور 1978 کے بولنگ اٹیک نے کیا کیا تھا؟

1962 میں کھیلی گئی پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستانی بولرز مجموعی طور پر 36 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن انفرادی کارکردگی میں کوئی بھی بولر 6 سے زیادہ وکٹیں نہیں لے پایا تھا۔ منیر ملک واحد بولر تھے جو اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے تھے۔

اس سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم صرف دو بار آل آؤٹ ہوئی تھی، لیکن 370 اور 428 رنز کرنے کے بعد۔

1978 میں کیری پیکر ورلڈ سیریز کی وجہ سے تجربہ کار کھلاڑیوں سے محروم پاکستانی ٹیم میں صرف سرفراز نواز ہی تجربہ کار بولر شامل تھے لیکن وہ بھی دو ٹیسٹ میچ کھیل پائے تھے ہیڈنگلے کے آخری ٹیسٹ میں انھوں نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 39 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن سکندر بخت، لیاقت علی، مدثر نذر اور اقبال قاسم پر مشتمل بولنگ انگلش بلے بازروں، خصوصاً ای این بوتھم، کی جارحانہ بیٹنگ کے سامنے بُری طرح ناکام رہا تھا۔

اس وقت تک یہ تمام بولرز بین الاقوامی کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے تھے۔

اس سیریز میں پاکستانی بولرز انگلینڈ کی 24 وکٹیں حاصل کر پائے تھے جن میں سب سے زیادہ 7 وکٹیں سکندر بخت کی تھیں۔

اس سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم صرف ایک بار 364 رنز پر آل آؤٹ ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے وہ ٹیسٹ اننگز کے فرق سے جیت لیا تھا۔

1967 اور 1971 میں بھی پاکستانی بولنگ اٹیک بہت زیادہ خطرناک نہیں تھا لیکن ان دوروں میں یہ بولنگ اٹیک بالترتیب 38 اور 37 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

شاہین آفریدی اور نسیم شاہ پر ہی انحصار کیوں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلینڈ کے بولرز کے مقابلے میں پاکستانی بولنگ اٹیک بہت کم میچز اور وکٹیں رکھتا ہے اور اس کا کسی طور بھی موازنہ جیمز اینڈرسن اور سٹیورٹ براڈ سے نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس سیریز میں کپتان اظہر علی اور ہیڈکوچ مصباح الحق نے شاہین آفریدی اور نسیم شاہ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ دوسرے ٹیسٹ کے بعد کم از کم ان میں سے ایک بولر کو ڈراپ کر کے کسی دوسرے بولر کو لایا جاسکتا تھا۔

یہاں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس دورے میں پاکستان کے پاس سولہ یا سترہ کھلاڑیوں کے بجائے 29 رکنی سکواڈ موجود تھا۔ اس سکواڈ میں شامل وہاب ریاض، سہیل خان اور عمران خان سینیئر کی شکل میں مصباح الحق کے پاس یہ آپشن موجود تھا کہ وہ تیسرے ٹیسٹ میں ان میں سے کسی ایک کو شامل کر کے بولنگ اٹیک کو نئی قوت دے سکتے تھے۔

وہاب ریاض کے بارے میں یہ نوید سنائی گئی تھی کہ وہ اس دورے میں ٹیسٹ سیریز کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔ سہیل خان نے پریکٹس میچوں میں دو بار پانچ، پانچ وکٹیں لے کر اپنی توانائی دکھائی تھی لیکن ینگ اینڈ ایکسائٹنگ بولرز کے روشن مستقبل کے چرچے میں 'حال' کا نتیجہ اپنے ہی حق میں آنے سے رہ گیا۔