آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: دوسرے دن کے آخر میں نائٹ واچ مین نہ بھیجنے کا فیصلہ درست تھا، فواد عالم
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
انگلینڈ کے خلاف تیسرا اور آخری ٹیسٹ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہاتھ سے تقریباً نکل چکا ہے۔
پاکستانی ٹیم اس مشکل صورتحال میں جس بیٹسمین سے بڑے سکور کی توقع کر سکتی تھی وہ بابراعظم تھے لیکن وہ بھی اپنی وکٹ جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں نہ بچا سکے۔
یہاں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ جب عابد علی کی وکٹ گری تو بابراعظم کی جگہ کیا نائٹ واچ مین کو نہیں بھیجا جاسکتا تھا؟
عابد علی پاکستان کی اننگز کے پانچویں اوور میں آؤٹ ہوئے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ بابراعظم کو صرف 26 گیندیں کھیلنے کو ملیں اور وہ اننگز کے گیارہویں اوور میں آؤٹ ہوئے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین فواد عالم جب ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی میڈیا ٹاک میں آئے تو ان سے بھی یہی سوال کیا گیا لیکن انھوں نے بابراعظم ہی کو بیٹنگ کے لیے بھیجے جانے کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔
کرکٹ کی اصطلاح میں نائٹ واچ مین وہ بولر ہوتا ہے جسے میچ کے اختتامی اوورز میں ٹاپ آرڈر کے کسی بلے باز کے آؤٹ ہونے کی صورت میں بھیجا جاتا ہے تاکہ دیگر سپیشلسٹ بیٹسمینوں کو بچایا جا سکے۔
اس حوالے سے کرکٹ کی دنیا میں آرا منقسم ہیں کچھ بلے باز نہیں چاہتے کہ ان کی جگہ نائٹ واچ مین بھیجا جائے جبکہ متعدد کوچز بھی اس حکمتِ عملی پر سوال اٹھا چکے ہیں کہ اگر کوئی ٹاپ آرڈر کا بلے باز شام کے اوقات میں مشکل بولنگ کا سامنا نہیں کر پاتا تو ایک بولر کیسے کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فواد عالم کا کہنا ہے کہ نائٹ واچ مین بھیجنا قبل از وقت ہوتا کیونکہ تقریباً آدھے گھنٹے کا کھیل اور آٹھ اوورز باقی تھے۔
عام طور پر تین چار اوورز رہتے ہوں تو اس صورت میں نائٹ واچ مین بھیجا جاتا ہے اس کے علاوہ بیٹسمین سے بھی پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ بیٹنگ کے لیے جانا چاہتا ہیں، اگر وہ نہ کریں صرف اس صورت میں نائٹ واچ مین بھیجا جات ہے۔ ان کے خیال میں بابراعظم بیٹنگ کرنے کے لیے تیار تھے۔
کریز پر کھڑے رہنے کا منفرد انداز
فواد عالم بیٹنگ کرتے ہوئے جس طرح کریز میں کھڑے رہتے ہیں اس پر کرکٹ کے حلقوں میں مختلف قسم کے تبصرے ہوتے رہے ہیں۔ ان کا یہ انداز یعنی سٹانس ویسٹ انڈین بیٹسمین شیونرائن چندر پال سے بہت ملتا جلتا ہے۔
فواد عالم کہتے ہیں انھیں اپنے اس سٹانس کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ وہ لوگوں کے تبصرے سنتے رہتے ہیں لیکن وہ اس بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ وہ اسی سٹانس کے ساتھ یہاں تک پہنچے ہیں اور پاکستان کا سٹار پہنے ہوئے ہیں۔
جو عام انداز سے کریز پر کھڑے رہنے والے بیٹسمین ہیں وہ بھی صفر پر آؤٹ ہوتے ہیں اور سنچری بھی بناتے ہیں لہٰذا یہ موضوع ان کے لیے اتنا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
مصباح کے صبر کا پیمانہ
فواد عالم سے پوچھا گیا کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق عام طور پر ٹھنڈے مزاج کے شخص ہیں اور بہت پرسکون رہتے ہیں لیکن پہلے ٹیسٹ کی ناکامی اور تیسرے ٹیسٹ میں دو دن کی مایوس کن کارکردگی کے بعد وہ کیا محسوس کررہے ہیں اور ڈریسنگ روم کا کیا ماحول ہے؟
فواد عالم کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو یہ بات بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ کرکٹ میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب ٹیم پہلا ٹیسٹ ہاری تھی تو انھوں نے ہر کھلاڑی سے تفصیل سے بات کی تھی اور اب بھی وہ اسی طرح پرسکون ہیں اور ہمیں لائحہ عمل دیتے ہیں۔
اب یہ کھلاڑیوں کا کام ہے کہ وہ اس لائحہ عمل پر عمل کریں۔ کھلاڑی پلان کو سمجھتے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ وہ اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں لیکن اس ٹیسٹ میں تسلسل کے ساتھ اچھی بولنگ نہیں ہو سکی ہے۔
ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انگلش بیٹسمینوں کی قسمت بھی کہیں نہ کہیں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔
پہلی ٹیسٹ وکٹ
فواد عالم 11 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے بارے میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ہوگا۔ ان کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ سے اتنا طویل عرصہ دور رہنا بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ان میں واپسی اور پرفارمنس کی بھوک موجود تھی اسی لیے انھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارمنس جاری رکھی۔
وہ اس وقت تک کھیلنا چاہتے ہیں جب تک ان کی فارم اور فٹنس ہے۔ ’یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ان کی کتنی کرکٹ باقی ہے۔ ایک اننگز میں رنز نہ کرنے کے بعد ہر کھلاڑی کی طرح ان پر بھی یقیناً دباؤ ہے لیکن یہی چیلنج ہوتا ہے کہ مثبت رہنا ہے اور اگلی اننگز میں اچھی کارکردگی کے بارے میں سوچنا ہے۔‘
فواد عالم نے اپنے پانچویں ٹیسٹ میں پہلی مرتبہ بولنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں دو وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی پہلی وکٹ جاس بٹلر تھے جس کے بعد انھوں نے کرس ووکس کو آؤٹ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فواد عالم کو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی وکٹ کے لیے چار ہزار ساٹھ دنوں کا انتظار کرنا پڑا۔
اب تک ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں صرف پانچ بولرز ایسے ہیں جنھوں نے اپنی پہلی وکٹ چار ہزار سے زائد دنوں کے انتظار کے بعد حاصل کی ہے۔
یہاں سرِفہرست ظہیرعباس ہیں جنھوں نے 5089 دنوں کے انتظار کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی وکٹ بھارت کے راجر بنی کو آؤٹ کرکے حاصل کی تھی۔