Friday, 25 July, 2008, 04:19 GMT 09:19 PST
ایک تحقیق کے مطابق ایڈز کے بہتر علاج کی وجہ سے اس مرض کے شکار افراد کی عمر میں اوسطاً تیرہ برس کا اضافہ ہوا ہے۔
تحقیق کے مطابق ایڈز کا وہ بیس سالہ مریض جن کے بارے میں نوے کے عشرے میں یہ خیال تھا کہ وہ چھتیس برس اور جی سکتا ہے،اب صحیح علاج کی وجہ سے مزید انچاس برس زندہ رہ سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صحیح طریقے سے علاج کی وجہ سے ایڈز اب ایک مہلک بیماری نہیں رہی بلکہ اس کا شمار’ کرانک کنڈیشن‘ میں ہونے لگا ہے۔ ’کرانک کنڈیشن‘ ذیابیطس کی مانند ایسی بیماری ہوتی ہے جو ایک طویل عرصے تک کسی فرد کو لاحق رہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے، جس میں برسٹل یونیورسٹی کا عملہ بھی شامل تھا، اس تحقیق کے دوران تینتالیس ہزار مریضوں کی حالت کا جائزہ لیا۔ جس کے بعد تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک ایسا شخص جس کے جسم میں بیس برس کی عمر میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہو وہ مزید انچاس برس زندہ رہ سکتا ہے۔
تاہم شمالی امریکہ اور یورپ کے سائنسدانوں پر مشتمل گروپ’اینٹی ریٹرو وائرل تھیراپی کوہورٹ کولابریشن‘ نے متنبہ کیا ہے کہ یہ عمر اب بھی دنیا کی زیادہ تر آبادی کی اوسط عمر سے کم ہے جو کہ اب قریباً اسّی برس کے قریب ہے۔
’اینٹی ریٹرو وائرل تھیراپی‘ ایچ آئی وی کا وہ طریقۂ علاج ہے جس میں شامل ادویات اس وائرس کی بیمار جسم میں بڑھوتری کے عمل کو سست کر دیتی ہیں۔ یہ طریقۂ علاج نوے کے عشرے میں سامنے آیا تھا اور اس وقت سے آج تک اس کی افادیت میں اضافہ ہوا ہے۔