http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 29 April, 2008, 15:04 GMT 20:04 PST

موسمی تبدیلی اثر غریب بچوں پر

بچوں سےمتعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ موسموں میں تبدیلی سے غریب ممالک کے بچے سب سے متاثر ہوں گے۔

یونیسف کےمطابق موسمی تبدیلی سے آنے والے سیلابوں اور قحطوں سے غریب ممالک کے بچے متاثر ہوں گے اور ان غریب ممالک میں بچوں کی صحت، تعلیم اور فلاح سے متعلق پروگرام متاثر ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق امیر ممالک ماحول سے پیدا ہونے والے تبدیلوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ غریب ممالک موسمی تبدیلی کے رحم و کرم پر ہیں۔

یونیسف کےایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بل نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر وہ آبادیاں ہو رہی ہیں جنہوں نے ماحول کی خرابی میں بہت ہی کم حصہ ڈالا ہے۔

’اگر دنیا نے اب بھی حالات کی سنگینی کو نہ بھانپا تو دنیا میں پایہ دار ترقی کے ایک ہزار سالہ اہدف حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔‘

یونیسف رپورٹ آلودہ گیسوں کو کم کرنے سےمتعلق کیوٹو معاہدے پر دستخط کرنےکے دس سال بعد جاری کی گئی ہے۔

پایہ دار ترقی کے ایک ہزار سالہ ہدف کی معیاد بیس ہزار پندرہ کو ختم ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے اہدف میں بدترین غربت کا خاتمہ، بچوں کی شرح اموات میں دو تہائی کمی، ملیریا اور ایڈز جیسے امراض کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

یونیسف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی کے بعض اہدف کو حاصل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ ماحول کی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے پر پڑے گا جس کی وجہ سے اجناس کی پیداوار کم ہوگی۔ موسمی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک پر پڑنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسم کی تبدیلی کا اثر کچھ افریقی ممالک پر پڑنا شروع ہو چکا ہے اور زمبیا جیسے ممالک کو بارشوں کی کمی کا سامنا ہے۔