Monday, 14 April, 2008, 22:36 GMT 03:36 PST
انٹرنیٹ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویب سائٹس ڈیرائن کرنے والے افراد کی جانب سے پرانی غلطیوں کا دہرایا جانا ویب ہیکرز کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ان سائٹس پر جانے والے افراد کو اپنی سائٹس کی جانب لے جائیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق ویب سائٹس کے لیے بنائے جانے والے کوڈ میں موجود کئی ایسے ’لوپ ہول‘ موجود ہیں جن کے بارے میں لوگ قریباًایک عشرے سے جانتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ غلطیاں ان تکنیکی طور پر مضبوط مجرموں کے لیے نعمت ثابت ہو رہی ہیں جو اپنے شکار کی تلاش میں ہیں۔ سکیورٹی فرم سمنٹک کے مطابق اس لحاظ سے ہیکر حملوں کا ممکنہ شکار بننے والی ویب سائٹس کی تعداد سنہ 2007 کے آخری چھ ماہ میں دوگنی ہوگئی ہے۔
سمنٹک کے سکیورٹی آپریشنز کے ڈائریکٹر کیون ہوگن کا کہنا ہے کہ ’بگ‘ سے متاثر ویب کوڈ بہت سی عام ویب سائٹس پر جانے والوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے اور’اس سے یہ خیال غلط ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ جوئے یا عریانیت دکھانے والی ویب سائٹس سے دور رہیں تو آپ محفوظ ہیں‘۔
کیون ہوگن کے مطابق زیادہ سے زیادہ ہیکر اب ایسی ویب سائٹس کی تلاش میں ہیں جننہیں بنانے میں یہ ویب کوڈ استعمال کیے گئے ہیں کیونکہ ایسی سائٹس کو ہیک کرنا آسان ہوتا ہے۔
سیمنٹک کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ویب سائٹس ایڈمنسٹریٹر اس تکنیکی خلاء کو پُر کرنے کے لیے بہتر کام نہیں کر رہے۔