Monday, 03 March, 2008, 12:09 GMT 17:09 PST
ماہرین کے مطابق جنوبی امریکہ میں پائے جانے والے ایک مینڈک کی کھال سے رِسنے والے مواد سے شوگر کی ٹائپ ٹو کا علاج ممکن ہے۔ یہ مینڈک اپنی ابتدائی عمر میں ستائیس سنٹی میٹر تک طویل ہوتا ہے اور بالغ ہوتے ہی چھوٹا ہو کر چار سنٹی میٹر کا رہ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مینڈک سے حاصل ہونے والا مواد انسولین پیدا کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس، برطانیہ نامی تنظیم کی سالانہ کانفرنس میں بتایا گیا کہ مینڈک سے حاصل ہونے والے مواد سے نئی ادویات بن سکتی ہیں۔
برطانیہ میں تقریباً بیس لاکھ لوگ ذیابیطس کی ٹائپ ٹو کا شکار ہیں۔ اس بیماری کی وجہ جسم میں ضروری مقدار میں انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ہونا یا انسولین کا غیر مؤثر ہونا ہے۔ اس بیماری کا عام طور پر موٹاپے سے بھی تعلق جوڑا جاتا ہے۔
ذیابیطس برطانیہ کے چیف ایگزیکیٹو ڈگلس سمالوُڈ نے کہا کہ ٹائپ ٹو پر مناسب خوراک اور ورزش سے قابو پایا جا سکتا ہے لیکن اسے مکمل طور پر کنٹرول میں لانے کے لیے ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔