http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 09 January, 2008, 10:45 GMT 15:45 PST

حیاتی ایندھن میں کاربن اخراج کم

ایک تحقیق کے مطابق تیزی سے اُ گنے والی گھاس سے حاصل کردہ حیاتیاتی ایندھن سے پٹرول کی نسبت کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج کم ہوتا ہے۔

امریکی سائنسدانوں کی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ ہوا ہے کہ گھاس سے بنی ایتھینل میں ایندھن بنانے کے لیے درکار توانائی پانچ سو چالیس فیصد زیادہ ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ایک ایکڑ رقبے پر گھاس سے اوسطاً تین سو بیس بیرل حیاتیاتی ایتھینل بنتی ہے۔

امریکی سائنسدانوں کی یہ تحقیق نیشنل اکیڈمی آف سائینسز میں شائع ہو گی۔ اسے سب سے بڑی تحقیق کہا جا رہا ہے کیونکہ اس میں دس کھیت جن کا رقبہ تین سے نو ہیکٹر ہے پر تحقیق کی گئی ہے۔

اس تحقیق میں شریک امریکی ادارہ برائے زراعت کے ڈاکٹر کین ووگل کا کہنا ہے کہ ماضی میں توانائی پر اندازوں پر مبنی تھیں۔

پچھلے سال ایک تحقیق کے مطابق گھاس سے بنی ایتھینل میں ایندھن بنانے کے لیے درکار توانائی تین سو تینتالیس فیصد زیادہ موجود ہوتی ہے جو کہ موجودہ تحقیق سے بہت کم ہے۔

ڈاکٹر کین ووگل کا کہنا ہے کہ پچھلی تحقیق کے مقابلے میں انہوں نے کسانوں سے بھی تمام ڈیٹا حاصل کیا اور تمام معلومات حاصل کرنے کے بعد وہ ایک حقیقت سے قریب نتیجے پر پہنچے۔

ان معلومات میں نائٹروجن کھاد، نباتات، ڈیزل اور بیجوں کی پیداوار شامل ہیں۔

 سائینسدانوں کے مطابق گھاس سے بنی ایتھینل سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج میں چرانوے فیصد کمی ہوتی ہے بنسبت پٹرول کے۔
 

انہوں نے کہا کہ چونکہ کوئی حیاتیاتی ریفائنری موجود نہ تھی اس لیے ان کو کُل توانائی کا حساب لگانے کے لیے یہ معلوم کرنا پڑا کہ پودے کتنی مقدار میں حیاتی ایتھینل بناتے ہیں۔

اگرچہ گھاس سے ایتھینل تیار کرنے کا عمل گندم کے مقابلے میں دشوار ہے لیکن یہ کئی گُنا زیادہ توانائی بنا سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق گھاس سے بنی ایتھینل سے کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج پیٹرول کی بنسبت چورانوے فیصد کم ہوتی ہے۔

حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج ہوتا ہے لیکن پودے اگانے سے یہ گیس جذب ہو جاتی ہے۔

اس پر اس بنا پر تنقید کی جاتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ایک بڑے زرعی رقبے کو زراعت سے محروم کردیتا ہے جس سے فصل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور کاربن کے اخراج میں بھی محدود پیمانے پر بچت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ووگل نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپ کی نسبت امریکہ میں بہت زیادہ رقبہ ایسا ہے کہ جہاں کھیتی باڑی نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی ریفائنری کو بہت بڑی مقدار چاہیے ہو گی اس لیے اس میں معاشیات کا بھی عمل دخل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ حیاتی ریفائنری کے پچیس سے پچاس میل کے فاصلے ہی میں خوراک کا ذخیرہ ہو۔