Monday, 03 December, 2007, 04:15 GMT 09:15 PST
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں آج یعنی پیر سے ماحولیات کے حوالے سے ایک اہم کانفرنس شروع ہو رہی ہے جس کے بارے میں توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس میں ہونے والے مذاکرات آئندہ ماحولیات پر عالمی پالیسی تشکیل دینے کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔
سن 2012 میں کیوٹو معاہدہ ختم ہو رہا ہے اور کوششیں جاری ہیں کہ اس کی جگہ لائے جانے والے معاہدے پر اتفاقِ رائے ہو جائے۔
بالی میں ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کوئی ہدف مقرر کرنا ضروری بھی یا نہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیات کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بالی کانفرنس میں امریکہ کا کردار نہایت اہم ہو گا۔
بالی میں ہونے والی اس دو ہفتے کی کانفرنس میں اس بات پر بحث کی جائے گی کہ کس طرح غریب ملکوں کی مدد کی جائے کہ وہ عالمی حدت سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کا مقابلہ کر سکیں۔
دریں اثناء صدر بش نے جو قوانین کی جگہ ٹیکنالوجی پر ضرور دیتے ہیں کہا ہے کہ 2005 کے مقابلے میں 2006 میں امریکہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 1.5 فیصد تک کمی آئی ہے۔
یاد رہے کہ اس برس جون میں جی ایٹ اجلاس کے موقع پر صدر بش نے گیسوں کے اخراج میں قابلِ ذکر حد تک کمی لانے اور 2009 کے آخر تک کیوٹو پروٹوکول کی جگہ نیا نظام لانے کے حوالے سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔