Saturday, 17 November, 2007, 15:37 GMT 20:37 PST
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں منظر عام پر آنے والی نئی رپورٹ نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے قدم اٹھانے کی وجہ فراہم کردی ہے۔
’انٹرگورنرمینٹل پینل آف کلائمٹ چینج (آئی پی سی سی)‘ کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رپوٹ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلے کرنے کے لیے حقیقی اور سستے راستے موجود ہیں۔
انہوں نے اگلے ماہ بالی میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں کوئی قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی پی سی سی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی بالکل واضح ہے اور اس کی وجہ سے غیر متوقع اور ناقابل تبدل اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ ان اثرات میں گلیشیئرز کا تیزی سے پھگلنا اور جانداروں کی اقسام کا معدوم ہونا شامل ہے۔
سپین میں ایک ہفتےتک چلنے والی بات چیت کے بعد اقوام متحدہ کے سائنسدانوں کے پینل نے اس رپورٹ کے نکات پر اتفاق کیا جس کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں بڑی تیزی سے زمین ایک گرم دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔
![]() | |
| باکیمون کا کہنا تھا: ’ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہو گا‘ |
رپورٹ کی تیاری کے دوران سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک صدی قبل کی بہ نسبت اس وقت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پینل کے چیئرمین راجندرا پچوری نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے ہونے والے اثرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا:’اگر ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح اتنی ہی رہے جتنی کے اب ہے تو تحقیق کے مطابق سطح سمندر میں صفر اعشاریہ چار اور ایک اعشاریہ چار میٹر کا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ پانی گرم ہونے سے پھیلتا ہے‘۔
ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اس رپورٹ کا اجراء ولینسیا میں بان کیمون نے کیا۔ بان کیمون نے اس رپورٹ کے اجراء پر آئی پی سی سی اور اس کی تیاری میں شامل سائنسدانوں کو ماحولیات سے متعلق کام کرنے اور ادارے کو امن کا نوبل انعام جیتنے پر مبارکباد دی۔
حقائق جاننے کی مہم کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے حال ہی میں انٹارکیٹیکا اور جنوبی امریکہ کا دورہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا :
’ہمارے سیارے کے کئی قیمتی خزانے انسانیت کے ہاتھوں ہی خطرے سے دوچار ہیں۔ تمام انسانیت کو ان قیمتی خزانوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنا ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا: ’ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے اثرات کو جان لینے کے بعد کہ وہ کس قدر شدید اورتیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں، ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہو گا‘۔
بان کی مون کا کہنا تھا:’ آج دنیا کے سائنسدانوں نے ایک آواز میں بڑا واضح پیغام دیا ہے۔ بالی کانفرنس کے موقع پر میں امید کرتا ہوں کہ دنیا کے پالیسی ساز اسی قسم کا مظاہرہ کریں گے۔‘
رپورٹ کے اہم نکات میں سے چند یہ ہیں: ماحولیاتی تبدیلی واضح ہے، انسانی کارروائی کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نوے فیصد سے زائد ہے جو اس مسئلے کی بظاہراصل وجہ ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو معقول طریقے سے کم کیا جا سکتا ہے۔
![]() | |
| آئی پی سی سی رپورٹ کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے |
رپورٹ کے دیگر اہم نکات میں سے چند درج ذیل ہیں:
حال کے مقابلے میں مستقبل میں 75 سے 250 ملین افراد کو پینے کے تازہ پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بارش کے پانی سے ہونے والی زراعت کی پیداوار آدھی ہونے اور افریقہ میں خوراک کی کمی میں اضافے کے خدشات ہیں۔ سمندری مونگوں (کورل ریفس) پر ہونے والے وسیع تر اثرات۔
آئی پی سی سی کی رپورٹ کے نتائج تین دسمبر کو بالی میں یو این کلائمٹ چینج کنوینشن اور کیوٹو پروٹوکول کے حوالے سے والی بات چیت کا حصہ ہوں گے۔