Wednesday, 29 August, 2007, 13:13 GMT 18:13 PST
گوگل نیٹ ورک کے بانی واں کراف نے کہا ہے کہ انٹر نیٹ کو سوسائٹی میں موجود برائیوں کا سبب قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے انہوں نے آن لائن پو موجود مواد پر سخت کنٹرول لاگو کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اس سے معاشرے کی ایک شبیہ کے سوا کچھ نہیں جس میں ہم رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں نیٹ پر نگرانی کی حد قانون کے تقاضوں تک محدود رکھنی چاہیے اور اگر آپ اس حد کو پار کریں گے تو آپ آزادی اظہار سے متعلق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہوں گے۔
’اگر یہ خلاف قانون نہیں ہے تو اس یہ دلچسپ سوال ابھرتا ہے کہ ہمیں کس حد تک جانا چاہیے۔‘
مسٹر واں کرف کا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی نے کہا ہے کہ کم عمر نوجوانوں اور بچوں کی یو ٹیوب جیسی ویب سائٹس تک رسائی نہیں ہونی چاہیے جہاں پر وہ پر تشدد وڈیو فلمیں دیکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک مرکزی طور کنٹرول کرنے کی بجائے یہ بہتر ہو گا کہ اس نکتے پر پابندیاں عائد کی جائیں جہاں تک صارفین رسائی حاصل کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر، انہوں نے کہا، گُوگل کے ذریعے سرچ کے نتائج کو فلٹرز کی مدد سے محدود کیا جا سکتا ہے جسے کنٹرول کیا جا سکتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک غلطی ہو گی کہ نیٹ کے ذریعے نظر آنے والے مواد کو عام زندگی سے الگ کر کے دیکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک پر دستیاب زیادہ تر مواد وہ ہوتا ہے جسے صارفین اپ لوڈ کرتے ہیں۔ ’ہم جو کچھ بھی نیٹ پر دیکھتے ہیں وہ معاشرے کی ہی ایک شبیہ ہوتی ہے۔‘
گوگل کی پالیسی کے مطابق ایسی تمام وڈیوز جنہیں صارفین ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں انہیں یو ٹیوب سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ تاہم کمپنی کے ناقدین کا الزام ہے کہ اس سلسلے میں سرعت نہیں دکھائی جاتی۔