Saturday, 25 August, 2007, 09:54 GMT 14:54 PST
برطانوی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بلڈ پریشر کو ریگیو لیٹ کرنے کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے اورسٹروک اور ہارٹ اٹیک سے مقابلے کے لیے نئی ادویات کی امید ظاہر کی ہے۔
برطانیہ میں ہر چار لوگوں میں سے ایک کو ہائی بلڈ پریشر ہوتا ہے حالانکہ اس کے لیے بہت اچھی دوائیں پہلے ہی موجود ہیں لیکن چند ہی لوگ اپنے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھ پاتے ہیں۔
جریدہ سائنس کے مطابق لندن کے کنگز کالج میں کی گئی تحقیق میں آکسیڈیشن نام کے عمل کو شامل کیا گیا۔ ابھی تک آکسیڈیشن کو فائدے سے کم اور نقصان سے زیادہ وابستہ کیا جاتا تھا۔
یہ درست ہے کہ ہائیڈروجن جیسے آکسیڈنٹس خلیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی خلیوں کے معمول کے کام کاج میں اہم رول بھی ادا کرتے ہیں۔پروٹین کناسے جی (پی کے جی) تمام خلیوں میں ایک اہم پروٹین ہے لیکن قلب کی شریانوں کے نظام میں بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔
خون کی شریانوں میں پیدا ہونے والا نٹرک آکسائیڈ اس عمل میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
لیکن کنگز کالج کے جوزف برگوئین اور ان کےساتھیوں نے پی کے جی کے استعمال کا ایک انوکھا طریقہ نکالا ہے جس کے تحت نائٹرک اکسائیڈ کو آزادانہ طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے پتہ لگایا کہ ہائیڈروجن جیسے آکسیڈنٹس دو امینو ایسڈز کو جوڑتا ہے جو پی کے جی پروٹین کو سرگرم کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔
اس ٹیم کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر فلپ ایٹن کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ایک نئی دوا ایجاد ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے اب تحقیق کار اس نئے طریقے کے ذریعے ہارٹ اٹیک کو کنٹرول کرنے کی سمت کام کر رہے ہیں۔