Friday, 10 August, 2007, 08:17 GMT 13:17 PST
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا ماڈل تیار کر لیا ہے جس کی مدد سے وہ اس بات کی پیش گوئی کر سکیں گے کہ اگلی دہائی میں سمندری لہریں اور انسانی سرگرمیاں درجہ حرارت پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔
اس منصوبے پر کام کرنے والی برطانوی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایل نینو جیسے قلیل مدت کے قدرتی عوامل کو شامل کرکے وہ درجہِ حرارت سے متعلق دس سالہ پیش گوئی کر سکیں گے۔
اس سے پہلے پیش کیے جانے والے ماڈل اس بات پر توجہ مرکوز کر رہے تھے کہ ایک سو سال میں درجہِ حرارت میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
برطانوی تحقیق کاروں کی ٹیم کی پیش گوئی کے مطابق سن دو ہزار نو اور دو ہزار چودہ کے درمیان کم از کم آدھے سالوں میں درجہِ حرارت حالیہ ریکارڈ کو توڑ سکتا ہے۔
ٹیم نے آئندہ دو برس میں انسانی سرگرمیوں کے درجہ حرارت پر کم تر اثرات کی پیشگوئی کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ سن دو ہزار چودہ میں سن دو ہزار چار کے مقابلے میں درجہِ حرارت صفر اعشاریہ تین ڈگری سنٹی گریڈ زیادہ ہو گا۔
حالیہ ریکارڈ کے مطابق سن انیس سو اٹھانوے اب تک کا گرم ترین سال تھا جب زمین اور اوسط درجہِ حرارت چودہ اعشاریہ چون ڈگری سنٹی گریڈ رہا۔
’انٹرنیشنل پینل آن کلائمنٹ چینج‘ کی تازہ ترین رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا کے درجہ حرارت میں صدی کے اختتام تک ایک اعشاریہ سے چار ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کی توقع ہے۔
برطانوی موسمیاتی سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق حدت کی پیش گوئی کرنے والے نئے فارمولے میں بھی وہی ماڈل استعمال کیا گیا ہے جو انٹرنیشنل پینل آن کلائمنٹ چینج کی رپورٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔