http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 26 July, 2007, 14:05 GMT 19:05 PST

پائریسی گروہ کے خلاف بڑی کارروائی

امریکی ادارہ ایف بی آئی ایک کارروائی میں دنیا میں پائریسی کے ایک بڑے کاروباری مرکز کو بند کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس کارروائی میں دو سو پچاس ملین ڈالر کے جعلی سافٹ وئر قبضے میں لے گئے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ جعلی سافٹ وئر بنانے والا یہ چینی گروہ ایف بی آئی کے چھاپے سے قبل دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے نقلی سافٹ وئر فروخت اور تقسیم کر چکا تھا۔

دو ہفتے جاری رہنے والی اس کارروائی میں ایف بی آئی اور چین کے پبلک سکیورٹی کے محکمے کے اہلکاروں نے پچیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔

چین میں حالیہ عرصہ میں نقلی سافٹ وئر کے کاروبار میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود اعداد و شمار کے مطابق ملک میں استعمال ہونے والے سافٹ وئرز میں سے بیاسی فیصد نقلی ہوتے ہیں۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ چین کے صوبے گؤانگ ڈونگ میں جاری غیر قانونی کاروبار کے خلاف ثبوت جمع کرنے میں ادارے کو کئی برس لگے ہیں۔

سلسلہ وار چھاپوں کے دوران ایف بی آئی نے دو لاکھ نوے ہزار سے زائد سی ڈیز ضبط کیں جن کی مالیت پانچ سو ملین ڈالر بنتی ہے۔

 گروہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ مائیکروسافٹ کے مقبول ترین تیرہ سافٹ وئرز کی نقل بنا رہا تھا جن میں ونڈوز وسٹا، ایکس پی، آفس 2003 اور آفس 2007 شامل ہیں
 

گروہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ مائیکروسافٹ کے مقبول ترین تیرہ سافٹ وئرز کی نقل بنا رہا تھا جن میں ونڈوز وسٹا، ایکس پی، آفس 2003 اور آفس 2007 شامل ہیں۔ یہ جعلی پروگرام آٹھ مختلف زبانوں کے صارفین کے لیے بنائے جا رہے تھے جن میں کروشیائی اور ولندیزی زبانیں بھی شامل تھیں۔

مائیکروسوفٹ نے اپنے ایک بیان میں ایف بی آئی کی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گروہ کی نشاندہی کرنے میں اسکی ایک سکیم نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ونڈوز جینوئن ایڈوانٹیج (Windows Genuine Advantage) کے نام سے شروع کی جانے والی اس سکیم کے تحت صارفین کے لیے اپنے سافٹ وئر اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ براہ راست مائیکروسوفٹ سے رجوع کریں۔

مائیکروسوفٹ کا کہنا تھا کہ گروہ کا سراغ لگانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس سکیم کے تحت مختلف ممالک میں فروخت کی جانے والی ایک ہزار جعلی کاپیوں سے ملنے والی معلومات سے بہت مدد ملی۔

اپنے بیان میں مائیکروسوفٹ نے مزید کہا: حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ہمیں توقع ہے کہ دنیا بھر میں نقلی سافٹ وئرز میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئے گی۔‘