ماحول میں تبدیلیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پیراک نے قطب شمالی کے منفی ایک اعشاریہ آٹھ درجے سینٹی گریڈ یا اٹھائیس اعشاریہ سات درجے فارن ہائٹ سرد پانی میں پیراکی کا مظاہرہ کیا ہے۔
سینتیس سالہ لیوس گورڈن پف نے جو اپنی قوتِ برداشت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں سرد پانی میں اٹھارہ منٹ پچاس سیکنڈ تک پیراکی کی۔ اتنے سرد پانی میں کسی انسان کی پیراکی کا یہ پہلی ریکارڈ ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کی پیراکی عالمی رہنماؤں کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں سنجیدگی اختیار کرنے پر اکسائے گی۔
اس مہم جوئی میں چینل سوئمنگ ایسوسی ایشن قواعد کے مطابق پف نے پیراکی کے لیے جوتے، ٹوپی اور مخصوص چشمے کا استعمال کیا۔
وہ اتوار کو برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق دو بجے قطبِ منجمد شمالی کی ایک کھاڑی میں اترے۔
کھاڑی کے سرد ترین پانی میں اترنے کے کا تجربے کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پانی بالکل سیاہ تھا اور ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی تاریک سیاہ سوراخ میں اتر رہا ہوں۔ یہ ایک انتہائی ڈراؤنا تجربہ تھا،۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سب سے پہلا اور فوری احساس درد کا تھا جو فوراً ہی شروع ہو گیا اور یوں لگتا تھا جیسے سارے جسم میں آگ لگی ہوئی ہو۔ کئی بار تو تکلیف کے باعث میں نے پیراکی ترک کرنے کا بھی سوچا‘۔
پف نے توقع ظاہر کی ہے کہ ان کی یہ کوشش دنیا کے رہنماؤں اس وقت قطبِ شمالی کی موجودہ حالت کا احساس دلائے گی جب وہ ہماری اس دنیا کے حیاتیاتی تنوع کے بارے میں فیصلے کر رہے ہوں گے‘۔