http://bbc.com.im/urdu/

گوگل اور ای بے کا تنازع

انٹر نیٹ پر نیلامی کی سائٹ ’ای بے‘ نے امریکہ میں گوگل پر اپنے اشتہارات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

گوگل اور ای بے میں تنازع ایک تقریب کے انعقاد پر ہوا۔ گوگل نےیہ تقریب اسی شام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس روز ای بے کی سالانہ ’مرچنٹ کانفرنس‘ ہو رہی تھی۔

مبصرین نے گوگل کی طرف سے منعقد کی گئی تقریب کو، ادائیگیوں کے لیے ای بے کے نظام ’پے پال‘ سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر اپنے کارڈ سسٹم کی طرف مبذول کرانے کا ایک حربہ قرار دیا تھا۔

ای بے ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ ڈالر امریکہ میں گوگل کو اشتہار دینے پر خرچ کرتا ہے۔

اس طرح ای بے گوگل پر اشتہارات دینے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

ای بی کے ترجمان ہانی دورزی کے مطابق یہ اقدام ابلاغ کے مختلف ذرائع کو استعمال کرنے کے تجربے کا حصہ ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ گوگل کی طرف سے اسی دن اپنی تقریب منعقد کرنے پر مایوس ہیں۔ گوگل نے ادائیگیوں کا اپنا نظام چیک آوٹ سروس امریکہ میں گزشتہ سال شروع کیا تھا اور اس نظام کو اس سال اپریل میں برطانیہ میں بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

ای بے کے ترجمان نے کہا کہ وہ ایک تجارتی حصہ دار کی طرف سے اس طرح کی کارروائی کو نامناسب سمجھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گوگل بوسٹن میں ای بے کا پے پال کا استعمال کرنے والوں کو اپنے سسٹم کی طرف مائل کرنا چاہتا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مذاکرات کے بعد ای بے دوبارہ گوگل پر ہی اشتہار دینے پر رضامند ہو جائے گا کیونکہ ای بے کو امریکہ سے موصول ہونے والے سوالات میں سے پچاس فیصد اور یورپ سے موصول ہونے والے سوالات میں سے اسی فیصد گوگل کے ذریعے ہی آتے ہیں۔

انٹر نیٹ کے ایک ماہر ائین ماڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ گوگل نے ایک چالاکی کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو الٹی پڑ گئی۔

ای بے نے جسے انٹر نیٹ پر ادائیگیوں کے نظام میں سبقت حاصل ہے، گوگل کی اس حرکت پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ ای بے نے سمجھا کہ گوگل اپنے ٹینک ان کے دالان میں کھڑے کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی ختم ہو جائے گی لیکن اس کی وجہ اور تنازعات کھڑے ہو جائیں گے کیونکہ اس وقت یہ صنعت ڈیجیٹل اشتہارات اور دوسرے شعبوں میں استحکام حاصل کرنے کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔