Tuesday, 12 June, 2007, 10:49 GMT 15:49 PST
ناسا کے دو امریکی خلاء بازوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر نئے سولر پینل نصب کرنے کے سلسلے میں خلاء میں اپنی چہل قدمی مکمل کی ہے۔
خلاء میں چھ گھنٹے اور پندرہ منٹ چہل قدمی کرنے کے بعد خلاء باز خلائی سٹیشن واپس پہنچے۔
خلائی شٹل اٹلانٹس اتوار کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پہنچی تھی۔ زمین سے اڑان کے وقت شٹل کی شدید حرارت سے بچانے والی چادر کو نقصان پہنچا تھا اور اب ناسا اس کی تصاویر کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹنے پر غور کر رہی ہے۔
2003 میں خلائی شٹل کولمبیا کو بھی اڑان کے وقت نقصان پہنچا تھا جس کے بعد زمین پر آتے ہوئے شٹل تباہ ہوگئی تھی اور اس میں سوار سات خلاء باز ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکی خلائی ایجنسی اگلے ایک یا دو روز میں اس بات کا فیصلے کرے گی کہ کیا اس چادر کی مرمت کے لیے خلاء باز ایک مرتبہ پھر شٹل سے باہر خلاء میں جائیں گے۔
شدید حرارت سے محفوظ رکھنے والی اس چادر کے چار انچ کے حصے کو جمعہ کے روز اڑان کے وقت نقصان پہنچا تھا۔
![]() | |
| شدید حرارت سے محفوظ رکھنے والی چادر کو پہنچنے والا نقصان |
خلائی سٹیشن کے روبوٹک ہاتھ نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے ساتھ ایک سولہ ٹن کا نیا حصہ جس میں نئے سولر پینلز کا ایک جوڑا شامل ہے جوڑ دیا ہے۔
ان سولر پینلز سے سٹیشن کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
بدھ اور جمعہ کے روز ان سولر پینلوں کا کام مکمل کرنے اور خلائی شٹل کی چادر کی مرمت کے لیے پھر سے خلاء میں چہل قدمی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت یہ سال کا دوسرا شٹل مشن تھا لیکن فروری میں فلوریڈا میں خراب موسم کے باعث شٹل کو نقصان پہنچا تھا اور مشن کو مارچ کے وسط تک ملتوی کرنا پڑا تھا۔
تاخیر کے باوجود اس مشن کے مینیجر پر امید ہیں کہ 2010 میں شٹل کی ریٹائر منٹ سے پہلے اس بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو مکمل کر لیا جائے گا۔
اس سٹیش تک مختلف آلات اور مزید رسد پہنچانے کے لیے ناسا مزید پندرہ مشن بھیجنے کا ارداہ رکھتی ہے۔