Monday, 11 June, 2007, 11:24 GMT 16:24 PST
امریکی خلائی شٹل ایٹلانٹس کے سوار بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر کامیابی سے اترنے کے بعد اپنی پہلی خلائی چہل قدمی کی تیاریاں مکمل کر رہے ہیں۔ ایٹلانٹس کا عملہ تین مرتبہ خلاء میں چہل قدمی کرے گا۔
ناسا کے خلائی سفر کے پرورگرام میں یہ ایک نیا مرحلہ ہے اور اس کا اصل مقصد مستقبل میں انسان کو مریخ پر اتارنا ہے۔
شٹل ایٹلانٹس اتوار کوگرینچ کے معیاری وقت کے مطابق شام سات بجکر اڑتیس منٹ پر مغربی بحرالکاہل سے دو سو بیس میل کی بلندی پر واقع بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر اتری۔
ناسا کے سائنس دان شٹل کو پہنچنے والے نقصان کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ جمعہ کو جب شٹل اپنے مشن پر روانہ ہوئی تو اس کی بیرونی سطح کی ٹائیلوں میں شگاف پڑ گیا تھا۔
ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے کے خیال میں شٹل کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ’فی الوقت ہمارے لیے یہ پریشانی کی بات نہیں ہے‘۔
سنہ دو ہزار تین میں اسی طرح روانگی کے وقت شٹل کولمبس کو بھی نقصان پہنچا تھا جو زمین پر واپسی کے دوران ٹکڑے ٹکڑے ہو کر فضا میں بکھر گئی تھی اور اس پر سوار تمام کے تمام سات خلا نورد ہلاک ہوگئے تھے۔
تاہم ایٹلانٹس کو پہنچنے والے نقصان کے باجود اس کے بین الاقوامی سٹیشن پر اترنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔
ماہرین نے متاثرہ جگہ کی تصاویر کا معائنہ کیا ہے جو شٹل کے روبوٹک بازو پر لگے کیمرے سے لی گئی ہیں۔
ناسا کا آخری خلائی مشن دسمبر میں تھا۔اٹلانٹس میں سوار سات خلاباز بین الاقوامی خلائی مرکز میں پہنچ کر دو شمسی پینلوں سمیت تنصیب کے دیگر کام کو جاری رکھیں گے۔
شٹل کے پروگرام مینیجر نے بتایا کہ اٹلانٹس کی روانگی کے بعد اس کے ایندھن کے ٹینک سے کچھ فوم گِرا تھا لیکن یہ شٹل سے نہیں ٹکرایا اور ابتدائی تجزیے کے مطابق اس سے کسی نقصان کا اندیشہ نہیں۔
ناسا کی خلائی شٹل تین سال بعد ریٹائر کر دی جائیں گی اور اس کو اسی دوران بین الاقوامی مرکز کی تعمیر مکمل کرنا ہے۔
ناسا کے پروگرام کے تحت بین الاقوامی مرکز تک ضروری سامان اور آلات پہنچانے کے لیے پندرہ مزید مِشن روانے کیے جائیں گے جن میں سے ایک کے کا مقصد ہبل خلائی دوربین کی مرمت ہے۔
خیال ہے کہ تعمیر مکمل ہونے تک خلائی مرکز میں خلابازوں کو ٹھہرانے کی صلاحیت دوگنی ہو جائے گی اور چھ لوگ وہاں رک سکیں گے۔